تذکرہ — Page 768
۱۷؍ فروری۱۹۰۴ء قاضی عبدالرحیم صاحب ؓبھٹی آف قاضی کوٹ ۱۷ ؍ فروری ۱۹۰۴ء کی ڈائری میں لکھتے ہیں۔’’آج رات حضرت ؑ نے خواب بیان فرمایا۔کسی نے کہا کہ جنگ ِ بدر کا قصہ مت بھولو۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد ۶ صفحہ ۱۳۳ مطبوعہ ۱۹۶۰ء) ۱۹۰۴ء شیخ خیرالدین۱؎صاحبؓ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ چندولال مجسٹریٹ کے متعلق حضور ؑ نے فرمایا جبکہ کرم دین کا مقدّمہ پیش تھا کہ ’’ مَیں تو چندو لال۲؎کو عدالت کی کرسی پر نہیں دیکھتا۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۴۔رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ ۹ صفحہ ۵۸، ۵۹) مئی ۱۹۰۴ء حضرت مولوی شیر علی صاحب ؓ کی ایک روایت بوساطت مولوی محمد عبداللہ صاحب بوتالوی لکھی ہے ’’قاضی ضیاء الدین صاحبؓ ساکن کوٹ قاضی …نے حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں ایک عریضہ نہایت انکساری کے الفاظ میں دعا کی درخواست کرتے ہوئے لکھا …حضرت اقدس علیہ السلام نے خط پہنچنے کے بعد دعا کی اور آپ کو رات کے وقت جواب ملا۔’’وہ بیچارہ فوت ہوگیا ہے‘‘ آپ نے صبح حاضرین سے کہا کہ مَیں نے اِس طرح سے دعا کی تھی اور یہ جواب ملا ہے۔تھوڑی دیر بعد ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ صاحب اصل میں باشندہ لدھیانہ کے تھے او رموچی کا کام کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جوتی بناکردیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ مَیں گورداسپور میں کرم دین کے مقدّمہ میں حضور ؑ کے ساتھ رہا۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ایک دفعہ چند ایک غیر احمدیوں نے کہا کہ حضور چند و لال مجسٹریٹ کا ارادہ آپؑ کو قید کرنے کا ہے۔آپ ؑ دری پر لیٹے تھے ‘اُٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ مَیں تو چندو لال کو عدالت کی کرسی پر نہیں دیکھتا چنانچہ آخر وہ اس عہدہ سے تنزل ہوکر ملتان تبدیل ہوگیا اور پھر پنشن پاکر لدھیانہ آیا اور آخر پاگل ہو کر مرا۔(الحکم مورخہ ۱۴؍ جولائی۱۹۳۵ء صفحہ ۴) اس کے تنزل کی نسبت پیشگوئی کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲۶ نشان نمبر ۲۹ میں بھی فرمایا ہے۔