تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 1089

تذکرہ — Page 47

اِس پیشگوئی میں صاف فرما دیا کہ وہ دن آتا ہے کہ ملاقات کرنے والوں کا بہت ہجوم ہوجائے گا یہاں تک کہ ہر ایک کا تجھ سے ملنا مشکل ہوجائے گا۔پس تُو نے اس وقت ملال ظاہر نہ کرنا اورلوگوں کی ملاقات سے تھک نہ جانا۔سبحان اللہ یہ کس شان کی پیشگوئی ہے اور آج سے ۱۷ برس پہلے اس وقت بتلائی گئی ہے کہ جب میری مجلس میں شاید دو تین آدمی آتے ہوں گے اور وہ بھی کبھی کبھی۔اس سے کیسا علم غیب خدا کا ثابت ہوتاہے۔‘‘ (سراج منیر۔روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۷۳) ۱۸۸۲ء یا اس سے قبل ’’ایک مرتبہ اس عاجز نے اپنی نظر کشفی میں سورۃ فاتحہ کو دیکھا کہ ایک ورق پر لکھی ہوئی اس عاجز کے ہاتھ میں ہے اور ایک ایسی خوبصورت اوردلکش شکل میں ہے کہ گویا وہ کاغذ جس پر سورۃ فاتحہ لکھی ہوئی ہے سُرخ سُرخ اور ملائم گلاب کے پھولوں سے اس قدر لدا ہوا ہے کہ جس کا کچھ انتہا نہیں اور جب یہ عاجز اس سورۃ کی کوئی آیت پڑھتا ہے تو اس میں سے بہت سے گلاب کے پھول ایک خوش آواز کے ساتھ پرواز کرکے اوپر کی طرف اُڑتے ہیں اور وہ پھول نہایت لطیف اور بڑے بڑے اور سُندر اور تروتازہ اور خوشبودار ہیں جن کے اُوپر چڑھنے کے وقت دل و دماغ نہایت معطّر ہوجاتا ہے اور ایک ایسا عالم مستی کا پیدا کرتے ہیں کہ جو اپنی بے مثل لذتوں کی کشش سے دنیا و مافیہا سے نہایت درجہ کی نفرت دلاتے ہیں۔اس مکاشفہ سے معلوم ہوا کہ گلاب کے پھول کو سورۃ فاتحہ کے ساتھ ایک روحانی مناسبت ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۳۹۵، ۳۹۶ حاشیہ نمبر۱۱ ) ۱۸۸۲ء ’’کچھ عرصہ گذرا ہے کہ ایک دفعہ سخت ضرورت روپیہ کی پیش آئی۔جس ضرورت کا ہمارے اس جگہ کے آریہ ہم نشینوں کو بخوبی علم تھااور یہ بھی ان کو خوب معلوم تھا کہ بظاہر کوئی ایسی تقریب پیش نہیں ہے کہ جو جائے امید ہوسکے بلکہ اس معاملہ میں ان کو ذاتی طور پر واقفیت تھی جس کی وہ شہادت دے سکتے ہیں۔پس جبکہ وہ ایسے مشکل اور فقدان اسباب حل مشکل سے کامل طور پر مطلع تھے اِس لئے بلا اختیار دل میں اس خواہش نے جوش مارا کہ مشکل کشائی کے لئے حضرت ِ احدیّت میں دعا کی جائے تا اس دعا کی قبولیت سے ایک تو اپنی مشکل حل ہوجائے اور دوسرے مخالفین کے لئے تائید الٰہی کا نشان پیدا ہو۔ایسا نشان کہ اس کی سچائی پر وہ لوگ گواہ ہوجائیں۔سو اُسی دن دعا کی گئی اور خدائے تعالیٰ سے یہ مانگا گیا کہ وہ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے۔تب یہ الہام ہوا۔