تذکرہ — Page 651
نومبر ۱۹۰۶ء ’’ ۱۔اولیاء اللہ سے مخالفت کرنا اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔۲۔مَنَّ۱؎ عَلَیْکُمْ رَبُّکُمْ۔۳۔اُعْطِیْکَ مَا اُعْطِیْکَ۔۴۔مَنَّ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ۔۵۔اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلَیْکَ لَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔۶۔اولیاء اللہ سے مخالفت کرنا نتیجہ اچھا نہیں رکھتا۔۷۔مَنَّ رَبُّکُمْ عَلَیْکُمْ۔۸۔اُعْطِیْکَ مَا اُعْطِیْکَ۔۹۔اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلَیْکَ لَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔۱۰۔خوش قسمتی سے میرا بیڑا پار ہوگیا۔۱۱۔رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِـرْ۔۱۲۔اِنَّ رَبِّیْ سَیَـھْدِیْنِ۔۱۳۔اَسْـمَعُ وَاَرٰی۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۴۵، ۱۴۴) ۲۸؍نومبر ۱۹۰۶ء ۱۔’’میری نسبت۔لَوْ۳؎ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَ بَـرَّہٗ۔‘‘۴؎ ۱ (ترجمہ از ناشر) ۲۔تم پر تمہارے ربّ نے احسان کیا۔۳۔مَیں تجھے دوں گا جو چیز دوں گا۔۴۔تمہارے ربّ نے تم پر احسان کیا۔۵۔جو لوگ تیری طرف اِلتفات نہیں کرتے یعنی نظرِ انکار سے دیکھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف بھی اِلتفات نہیں کرتے۔۷۔خدا نے تم پر احسان کیا۔۸۔مَیں تجھے دوں گا جو چیز دوں گا۔۹۔جو لوگ تیری طرف اِلتفات نہیں کرتے یعنی نظرِ انکار سے دیکھتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی طرف بھی اِلتفات نہیں کرتے۔۱۱۔اے میرے ربّ میں مغلوب ہوں پس میری مدد کر۔۱۲۔میرا ربّ عنقریب میری راہ کھول دے گا۔۱۳۔میں سنتا ہوں اور دیکھتا ہوں۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۹؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں ۲۳؍نومبر ۱۹۰۶ء کے تحت یہ الہامات یوں درج ہیں۔’’اِنَّ اللہَ مَنَّ عَلَیْکُمْ وَاُعْطِیْکَ مَا اُعْطِیْکَ۔اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلَیْکَ لَا یَلْتَفِتُوْنَ اِلَی اللّٰہِ۔پھر بعد اس کے الہام ہوا۔اولیاء اللہ سے مخالفت رکھنا اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس قسم کو ضرور پُورا کردے گا۔۴ (نوٹ از ناشر) ۱۔الحکم اور بدر میں یہ الہام یوں درج ہے۔’’ایک امر کے متعلق مزید تحقیقات کی حاجت تھی اس پر الہام ہوا۔لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَ بَـرَّہٗ (الحکم مورخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۱۔بدر مورخہ ۶؍ دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ ۳) ۲۔’’سعداللہ کی اِس پیشگوئی کے پُورا ہونے کے متعلق ایک مجلس میں ذکر تھا… ایک… خادم نے عرض کیا کہ یہ امر شاید قبل از وقت ہو۔اس پر حضرت اقدس نے بزور کہا کہ یہ پیشگوئی پوری ہوچکی ہے اورہمیں اس میں کوئی تامل نہیں۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری اِس بات کو جھوٹا نہیں کرے گا اور اس میں فتح ہماری ہے۔اس پر حضرت کو الہام ہوا جو الحکم میں مورخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۰۶ء کو چھاپ دیا گیا۔لَوْ اَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَ بَـرَّہٗ اورابھی اِس الہام پر تھوڑاہی عرصہ گزرا تھا کہ ۴؍جنوری کی شب کو لدہانہ کے ایک تارنے خبردی کہ سعداللہ فوت ہوگیا۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰ ؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۵)