تذکرہ — Page 627
جَآءَنِیْ اٰیِلٌ۱؎ وَّ اخْتَارَ۔وَ اَدَارَ اِصْبَعَہٗ وَ اَشَارَ۔اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ اَتٰی۔فَطُوْبٰی میرے پاس آیل آیا اور اُس نے مجھے چُن لیا اور اپنی اُنگلی کو گردش دی اور یہ اشارہ کیا کہ خدا کا وعدہ آگیا۔پس مبارک لِمَنْ وَّجَدَ وَ رَاٰی۔اَ۔لْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَ النُّفُوْسُ تُضَاعُ۔اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ وہ جو اس کو پاوے اور دیکھے۔طرح طرح کی بیماریاں پھیلائی جائیں گی اور کئی آفتوں سے جانوں کا نقصان ہوگا۔مَیں اپنے رسول اَقُوْمُ وَ اُفْطِرُ وَ اَصُوْمُ۔۲؎ وَ لَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ اِلَی الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ۔کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور مَیں افطار کروں گا اور روزہ بھی رکھوں گا۔اور ایک وقت ِ مقرر تک مَیں اِس زمین سے علیحدہ نہیں ہوں گا وَ اَجْعَلُ لَکَ اَ۔نْـوَارَ الْقُدُ۔وْمِ۔وَ اَقْصِدُ۔کَ وَ اَرُوْمُ۔وَ اُعْطِیْکَ مَا اور تیرے لئے اپنے آنے کے نور عطا کروں گا اور تیری طرف قصد کروں گا۔اور وہ چیز تجھے دوں گا جو یَدُ۔وْمُ۔اِنَّـا نَـرِثُ الْاَرْضَ نَـاْکُلُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا۔نُقِلُوْا اِلَی تیرے ساتھ ہمیشہ رہے گی۔ہم زمین کے وارث ہوں گے اور اطراف سے اس کو کھاتے آئیں گے۔کئی لوگ قبروں الْمَقَابِـرِ۔ظَفَرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔اِنَّ رَبِّیْ قَوِیٌّ قَدِیْرٌ۔اِنَّہٗ کی طرف نقل کریں گے۔اُس دن خدا کی طرف سے کھلی کھلی فتح ہوگی۔میرا ربّ زبردست قدرت والا ہے۔اور وہ بقیہ حاشیہ۔معنی ہیں کہ کبھی مَیں اپنی تقدیر اور ارادہ کو منسوخ کر دیتا ہوں اور کبھی وہ ارادہ جیسا کہ چاہا ہوتا ہے۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۶حاشیہ) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اِس جگہ آیل خدا تعالیٰ نے جبرئیل کا نام رکھا ہے اِس لئے کہ بار بار رجوع کرتا ہے۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۶حاشیہ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ ظاہر ہے کہ خدا روزہ رکھنے اور افطار سے پاک ہے اور یہ الفاظ اپنے اصلی معنوں کی رُو سے اُس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتے۔پس یہ صرف ایک اِستعارہ ہے۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی مَیں اپنا قہر نازل کروں گا اور کبھی کچھ مہلت دوں گا اس شخص کی مانند جو کبھی کھاتا ہے اور کبھی روزہ رکھ لیتا ہے اور اپنے تئیں کھانے سے روکتا ہے، اور اِس قِسم کے استعارات خدا کی کتابوں میں بہت ہیں جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کو خدا کہے گا کہ مَیں بیمار تھا۔مَیں بھوکا تھا۔مَیں ننگا تھا۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۰۷حاشیہ)