تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 598 of 1089

تذکرہ — Page 598

۲۔’’اسمائے پسرِ محمدی ۱۔بشیر الدّولہ ۲۔عالَم کباب ۳۔شادی خاں ۴۔کلمۃ اللہ خان۔۵۔کلمۃ العزیز ۶۔وارڈ۱؎ ۷۔ناصر الدین ۸۔فاتح الدین۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۹) ۲۰؍جون ۱۹۰۶ء ’’ ۱۔شیطان پر بہر حال تم نے تسلط پالیا۔۲۔وَقَالُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا۔قُلْ کَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَ ہٗ عِلْمُ الْکِتَابِ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۸) (ترجمہ) اور کہیں گے کہ یہ خدا کا فرستادہ نہیں۔کہہ میری سچائی پر خدا گواہی دے رہا ہے اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۹۴) ۲۱؍جون ۱۹۰۶ء روز پنج شنبہ ۱۔’’ الہام۔یَنْصُـرُکُمُ اللّٰہُ فِیْ وَقْتٍ عَزِیْزٍ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۷) (ترجمہ) خدا ایک عزیز وقت میں تمہاری مدد کرے گا۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۴) ۲۔(خواب) ’’اس وقت جو قریب نو بجے دن کے ہوگا روز پنج شنبہ ۲۱؍جون ۱۹۰۶ء میں نے خواب میں دیکھا کہ ملّا شمس الدین میاں فضل الٰہی ایک بڑا خوان انگور کا لایا ہے جس میں بہت سے انگور کے خوشے ہیں اور بعض ان میں سے موتیوں کی طرح کھڑے ہیں اور بعض الگ الگ دانے ہیں جن کا ایک ڈھیر خوان میں لگا ہوا ہے اور سفید اور چمکدار اور خوبصورت معلوم ہوتے ہیں اور میں ایک چارپائی پر لیٹا ہوں میں دیکھ کر کھڑا ہوگیا یعنی چارپائی پر ہی کھڑا ہوگیا اور میرے دل میں خیال آیا کہ مرزا افضل بیگ نے یہ انگور بھیجا ہے اور کبھی خیال آتا تھا کہ کچھ اس نے اپنے پاس بھی رکھ لیا ہے اور کبھی خیال آتا تھا کہ سب کا سب ہی بھیج دیا ہے۔انگور بہت ہیں اور جیسا کہ میں کھڑا ہوں ایسا ہی شمس الدین میرے دکھلانے کے لئے کھڑا ہے اور داہنے ہاتھ میں اس کے خوانِ انگور ہے وقت قریب دس بجے دن کے معلوم ہوتا ہے اور دروازے کے پاس میری چارپائی ہے۔۱ Word (کلمہ) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۱؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں یہ اسماء ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں نیز ان سے قبل یہ تحریر ہے۔’’میاں منظور محمد صاحب کے اُس بیٹے کے نام جو بطور نشان ہوگا بذریعہ الہام الٰہی مفصلہ ذیل معلوم ہوئے۔‘‘