تذکرہ — Page 503
پس مَیں کیوں کر کہوں کہ وہ حقیقی طور پر بیعت میں داخل ہیں۔مجھے وقتاً فوقتاً ایسے آدمیوں کا علم بھی دیا جاتا ہے مگر اِذن نہیں دیا جاتا کہ اُن کو مطلع کروں۔کئی چھوٹے ہیں جو بڑے کئے جائیں گے اور کئی بڑے ہیں جو چھوٹے کئے جائیں گے۔پس مقامِ خوف ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۴) ۱۹۰۵ء ’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کی ان آیتوں کی نسبت جو سورۃ کہف میں ذوالقرنین کے قصہ کے بارے میں ہیں میرے پر پیشگوئی کے رنگ میں معنے کھولے؎۱ ہیں۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ۱۱۹) ۱۹۰۵ء ’’خدا نے مجھے فرمایا کہ وہ تو تجھے رَدّ کرتے ہیں مگر مَیں تجھے خاتم الخلفاء بناؤں گا۔‘‘ (ضمیمہ براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ۲۶۷ حاشیہ) ۱۵؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’قبل ظہر تھوڑی سی ربودگی اور غنودگی ہوکر یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔‘‘ ؎۲ (الحکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخہ ۱۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۲) ۱۵؍ اپریل۱۹۰۵ء (الف)’’آج رات خواب میں دیکھا کہ سخت زلزلہ آیا ہے جو پہلے سے زیادہ معلوم ہوتا تھا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) (ب) ’’ اک نشاں ہے آنیوالا آج سے کچھ دن کے بعد تاریخ امروزہ ۱۵؍اپریل ۱۹۰۵ء جس سے گردش کھائیں گے دیہات و شہر اور مرغزار آئے گا قہرِ خدا سے خلق پر اِک انقلاب اِک برہنہ سے نہ یہ ہوگا کہ تا باندھے ازار یک بیک اِک زلزلہ سے سخت جُنبش کھائیں گے کیا بشر اور کیا شجر اور کیا حجر اور کیا بحار اِک جھپک میں یہ زمیں ہوجائے گی زیرو زبر نالیاں خوں کی چلیں گی جیسے آبِ رودبار رات جو رکھتے تھے پوشاکیں برنگِ یاسمن صبح کردے گی انہیں مثلِ درختانِ چنار ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ معنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے براہین احمدیہ حصّہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۱۱۹ تا ۱۲۶ پر بیان فرمائے ہیں۔۲ (ترجمہ) مَیں فوجیں لے کر اچانک تیرے پاس آؤں گا۔(بدر مورخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱)