تذکرہ — Page 491
۲۷۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔۲۸۔یَعْصِمُکَ اللّٰہُ وَ لَوْ لَمْ یَعْصِمْکَ النَّاسُ۔۲۹۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَ ہٗ۔۳۰۔یَـا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ۔۳۱۔اَلَمْ تَـرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِـاَصْـحٰبِ الْفِیْلِ۔۳۲۔اَلَمْ یَـجْعَلْ کَیدَ ھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۴، ۳۵) ۲۸؍ جنوری۱۹۰۵ء ’’الہام۔۱۔بِسْمِ الْکَافِیْ۔۲۔بِسْمِ اللّٰہِ الشَّافِیْ۔۳۔بِسْمِ اللّٰہِ الْغَفُوْرِ الرَّحِیْمِ۔۴۔بِسْمِ اللّٰہِ الْبَرِّ الرَّحِیْمِ۔۵۔یَـاحَفِیْظُ۔یَـا عَزِیْزُ۔یَـا رَفِیْقُ۔۶۔یَـا وَلِیُّ اشْفِنِیْ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۳۵) یکم فروری۱۹۰۵ء (الف) ’’ ۱۔اِنِّیْ مَعَ الرُّوْحِ مَعَکَ وَمَعَ اَھْلِکَ۔۲۔اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْـحَ یُوْسُفَ لَوْ لَا اَنْ تُفَنِّدُ وْنِ۔‘‘ ۳؎ (کاپی الہامات۴؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۵) بقیہ ترجمہ۔۲۷۔تُو مجھ سے اس مرتبہ پر ہے جس کو مخلوق نہیں جانتی۔۲۸۔اللہ تجھے بچائے گا خواہ لوگ تجھے نہ بچائیں۔۲۹۔کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔۳۰۔اے پہاڑو! اس کے ساتھ جھک جاؤ اور اے پرندو تم بھی۔۳۱۔کیا تُو نے نہیں دیکھاکہ تیرے رَبّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیسا سلوک کِیا۔۳۲۔کیا اُن کی تدبیر کو ناکام نہ بنادیا۔۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مَیں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو کافی ہے۔۲۔مَیں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو شافی ہے۔۳۔مَیں اللہ کے نام سے مدد چاہتا ہوں جو غفور و رحیم ہے۔۴۔مَیں اللہ کے نام کے ساتھ مدد چاہتا ہوں جو احسان کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔۵۔اے حفاظت کرنے والے۔اے غالب۔اے رفیق۔اے ولی مجھے شفا دے۔۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ یکم فروری ۱۹۰۵صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۵ء صفحہ ۸ پر یہ الہامات یوں درج ہیں۔’’۲۷؍ جنوری ۱۹۰۵ء کو حضرت اقدسؑ کے دائیں رخسارہ مبارک پر ایک آماس سا نمودار ہوا جس سے بہت تکلیف ہوئی۔حضورؑ نے دعا فرمائی تو ذیل کے فقرات الہام ہوئے۔دَم کرنے سے فوراً صحت حاصل ہوگئی۔بِسْمِ اللّٰہِ الْکَافِیْ۔بِسْمِ اللّٰہِ الشَّافِیْ۔بِسْمِ اللّٰہِ الْغَفُوْرِ الرَّحِیْمِ۔بِسْمِ اللّٰہِ الْبَرِّ الْکَرِیْمِ۔یَـا حَفِیْظُ یَـا عَزِیْزُ۔یَـا رَفِیْقُ۔یَـا وَلِیُّ اشْفِنِیْ۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مَیں مع جبریل کے تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔۲۔اگر ایسا نہ ہو کہ تم همجھے جھٹلانے لگو تو مَیں ضرور کہوں گا کہ مجھے یقیناً یوسف کی خوشبو آرہی ہے۔۴ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۸؍فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ اورالحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۲ میں یہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں۔