تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 1089

تذکرہ — Page 456

اِلَّا ھُزُوًا۔اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔بَلْ اٰتَیْنَاھُمْ بِالْـحَقِّ فَھُمْ لِلْـحَقِّ کَارِھُوْنَ۔۱۹۔وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۔۲۰۔سُـبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی عَـمَّا یَصِفُوْنَ۔۲۱۔وَ یَقُوْلُوْنَ لَسْتَ مُرْسَلًا۔۲۲۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ تُـؤْمِنُوْنَ۔۲۳۔اَنْتَ وَجِیْہٌ فِیْ حَضْـرَتِیْ۔اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔۲۴۔اِذَا غَضِبْتَ غَضِبْتُ۔وَ کُلَّمَا اَحْبَبْتَ اَحْبَبْتُ۔۲۵۔یَـحْمَدُ۔کَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔۲۶۔یَــحْمَدُ۔کَ اللّٰہَ وَیَـمْشِیْٓ اِلَیْکَ۔۲۷۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔۲۸۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدیْ۔۲۹۔اَنْتَ مِنْ مَّآءِنَا وَ ھُمْ مِّنْ فَشَلٍ۔۳۰۔اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔۳۱۔وَ عَلَّمَکَ مَالَمْ تَعْلَمْ۔۳۲۔قَالُوْا اَنّٰی لَک ھٰذَا۔۳۳۔قُلْ ھُوَ اللّٰہُ عَـجِیْبٌ لَا رَآ دَّ لِفَضْلِہٖ۔۳۴۔لَا یُسْئَلُ عَـمَّا یَفْعَلُ وَ ھُمْ یُسْئَلُوْنَ۔اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔۳۵۔خَلَقَ اٰدَمَ فَاَکْـرَمَہٗ۔۳۶۔اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ بقیہ ترجمہ۔کیا یہ وہی شخص ہے کہ جو خدا نے مبعوث فرمایا۔یہ تو اُن کی باتیں ہیں اور اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اُن کے سامنے حق پیش کیا، پس وہ حق کے قبول کرنے سے کراہت کررہے ہیں۔۱۹۔اور جن لوگوں نے ظلم کیا ہے وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ کس طرف پھیرے جائیں گے۔۲۰۔خدا ان تہمتوں سے پاک اور برتر ہے جو اُس پر لگارہے ہیں۔۲۱۔اور کہتے ہیں کہ تُو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا نہیں۔۲۲۔ان کو کہہ دے کہ خدا کی میرے پاس گواہی موجود ہے۔پس کیا تم ایمان لاتے ہو۔۲۳۔تُو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔مَیں نے اپنے لئے تجھے چُن لیا۔۲۴۔جب تُو کِسی پر ناراض ہوتو مَیں اُس پر ناراض ہوتا ہوں اور ہر ایک چیز جس سے تُو پیار کرتا ہے مَیں بھی اُس سے پیار کرتا ہوں۔۲۵۔خدا اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔۲۶۔خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔۲۷۔تُو مجھ سے اُس مرتبہ پر ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔۲۸۔تُو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید۔۲۹۔تُو ہمارے پانی سے ہے اور وہ لوگ فشل سے۔۳۰۔اُس خدا کو حمد ہے جس نے تجھے مسیح ابن ِ مریم بنایا ۳۱۔اور تجھے وہ باتیں سکھلائیں جن کی تجھے خبر نہ تھی۔۳۲۔لوگوں نے کہا کہ یہ مرتبہ تجھے کہاں سے اور کیوں کر مل سکتا ہے۔۳۳۔ان کو کہہ دے کہ میرا خدا عجیب ہے۔اُس کے فضل کو کوئی رَدّ نہیں کرسکتا۔۳۴۔جو کام وہ کرتا ہے اُس سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا مگر لوگ اپنے اپنے کاموں سے پوچھے جاتے ہیں۔تیرا رَبّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔۳۵۔اُس نے اس آدم کو پیدا کرکے اس کو بزرگی دی۔۳۶۔مَیں نے اس زمانہ میں ارادہ کیا کہ اپنا ایک خلیفہ زمین پر قائم کروں، پس مَیں نے اس