تذکرہ — Page 15
مَیں ہوں۔کہنے لگا کہ مَیں نے آپ کی تعریف سنی ہے کہ آپ کو اسرار دینی اور حقائق اور معارف میں بہت دخل ہے، یہ تعریف سن کر ملنے آیا ہوں۔مجھے یاد نہیں کہ مَیں نے کیا جواب دیا۔اِس پر اُس نے آسمان کی طرف منہ کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور بہہ کر رخسار پر پڑتے تھے۔ایک آنکھ اُوپر تھی اور ایک نیچے اور اس کے منہ سے حسرت بھرے یہ الفاظ نکل رہے تھے۔’’ تہی دستانِ عشرت را ‘‘ اس کا مطلب میں نے یہ سمجھا کہ یہ مرتبہ انسان کو نہیں ملتا جب تک کہ وہ اپنے اوپر ایک ذبح اور موت وارد نہ کرے۔اس مقام پر عرب؎۱ صاحب نے حضرت کا یہ شعر پڑھا جس میں یہ کلمہ منسلک تھا کہ مے خواہدنگارِ من تہیدستانِ عشرت را ؎۲ حضرت نے فرمایا کہ ’’ میں نے پھر اس کلمہ کو اس مصرعہ میں جوڑ دیا کہ یاد رہے۔‘‘ (البدر۳؎ جلد ۲ نمبر ۳ مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸، ۱۹ ) ۱۸۷۳ء (تخمیناً) ’’مَیں مرزا صاحب (والد صاحب) کے وقت میں زمینداروں کے ساتھ ایک مقدمہ پر امرتسر میں کمشنر کی عدالت میں تھا۔فیصلہ سے ایک دن پہلے کمشنر زمینداروں کی نہایت رعایت کرتا ہوا اور ان کی شرارتوں کی پرواہ نہ کرکے عدالت میں کہتا تھا کہ یہ غریب لوگ ہیں تم ان پر ظلم کرتے ہو۔اس رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ انگریز ایک چھوٹے سے بچہ کی شکل میں میرے پاس کھڑا ہے اور میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہا ہوں۔صبح کو جب ہم عدالت میں گئے تو اُس کی حالت ایسی بدلی ہوئی تھی کہ گویا وہ پہلا انگریز ہی نہ تھا۔اُس نے زمینداروں کو بہت ہی ڈانٹا اور مقدّمہ ہمارے حق میں فیصلہ کیا اور ہمارا سارا خرچہ بھی اُن سے دلایا۔‘‘ (الحکم جلد۵نمبر۲۲ مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۰۱ء صفحہ ۳) ۱۸۷۴ء (قریباً) ’’مَیں نے خواب میں ایک فرشتہ ایک لڑکے کی صورت میں دیکھا جو ایک اونچے چبوترے پر بیٹھا ہوا تھا اور اُس کے ہاتھ میں ایک پاکیزہ نان تھا جو نہایت چمکیلا تھا؎۴، وہ نان اُس نے مجھے دیا اور کہا کہ ۱ ابوسعید صاحب (مرزا بشیر احمد) ۲ (ترجمہ از مرتّب) کیوں کہ میرا محبوب آرام طلبی کی زندگی سے الگ رہنے والے لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔۳ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۸ میں بھی یہ خواب باختلافِ الفاظ درج ہے۔۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’اور بہت بڑا تھا گویا چارنان کے مقدار پر تھا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۹۰)