تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 1089

تذکرہ — Page 360

حق میں یا میرے اہل و عیال کے حق میں یا کسی دوست کے حق میں ہوتی ہے اور پھر میں جنابِ الٰہی میں اس کے ردّ کے لئے بہت الحاح کرتا ہوں تو وہ بلا ٹال دی جاتی ہے۔جیسا کہ ایک دفعہ میری موت کی نسبت ایک پیشگوئی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ جلد واقع ہونے والی ہے تو میں نے بہت الحاح سے دعا کرنا شروع کیا یہاں تک کہ الہام ہوا۔وَالْمَوْتِ اِذَا عَسْعَسَ۔ایسا ہی کئی دفعہ اتفاق ہوا ہے کہ ایک قضا مکدر کا علم دیا گیا ہے اور پھر وہ کثرت ابتہال اور تضرع سے ٹال دی گئی ہے اور اگر میں وہ پیشگوئیاں شائع کردیتا اور دل میں نہ رکھتا تو گویا دشمنوں کی نظر میں بہت سی پیشگوئیاں میری جھوٹی ہوتیں۔‘‘ (رجسٹر متفرق یادداشتیں ازحضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۲) ۱۹۰۰ء ’’ فرمایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ محمود کی والدہ آئی ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک جوتی ہے اور مجھ سے کہتی ہیں یہ نئی جوتی آپ پہن لیں اور پھر میرے ہاتھ میں دے کر کہا یہ جوتی آپ کے لئے ہے پہن لیجئے۔دشمن زیر ہے۔‘‘ (از چٹھی مولانا عبدالکریم صاحبؓ مندرجہ الحکم جلد۴نمبر ۳۷ مورخہ ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۲) ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۰ء (الف) ’’ بہت دفعہ ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ایک بات بتلاتے ہیں۔مَیں اُس کو سنتا ہوں مگر آپؐ کی صورت نہیں دیکھتا ہوں۔غرض یہ اک حالت ہوتی ہے جو بَین الکشف والالہام ہوتی ہے۔رات کو آپ ؐ نے مسیح موعود کے متعلق یہ فرمایا ہے۔یَضَعُ الْـحَرْبَ وَیُصَالِـحُ؎۱ النَّاسَ یعنی ایک طرف تو جنگ وجدال اور حرب کو اُٹھادے گا دوسری طرف اندرُونی طور پر مصالحت کرا دے گا۔گویا مسیح موعود کے لئے دو۲ نشان ہوں گے۔اوّؔل بَیرونی نشان کہ حَرب نہ ہوگی۔دُوسراؔ اندرونی نشان کہ باہم مصالحت ہوجاوے گی۔پھر۔اس کے بعد فرمایا۔سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ۔سِلْمَان یعنی ۲دو صُلحیں۔۔اور پھر فرمایا۔عَلٰی مَشْـرَبِ الْـحَسَنِ یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ میں بھی دو۲ ہی صُلحیں تھیں۔ایک صلح تو اُنہوں نے حضرت معاؔویہ کے ساتھ کرلی اور دوسری صحابہؓ کی باہم صلح کرادی۔اِس سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود حَسنی المشرب ہے… ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) کاتب کی غلطی سے بَیْنَ کا لفظ رہ گیا ہے چنانچہ الحکم مورخہ ۳۰؍نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل الہام یُصَالِـحُ بَیْنَ النَّاسِ ہے۔