تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 1089

تذکرہ — Page 290

۲۰؍نومبر ۱۸۹۸ء (الف) ’’الہام۔محمد علی خان بِاَیِّ عَزِیْزٍ بَعْدَ ہٗ تَعْلَمُوْنَ مولوی محمد علی؎۱ خدا میرا بھی گنہ بخشے۔‘‘ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام مندرجہ رجسٹر محاورات العرب) (ب) ’’ یہ رات جو پیر کی گزری ہے اس میں غالباً تین بجے کے قریب آپ کی نسبت مجھے الہام ہوا تھا اور وہ یہ ہے۔فَبِاَیِّ عَزِیْزٍ بَعْدَہٗ تَعْلَمُوْنَ۔یہ اللہ جلّ شَانُہٗ کا کلام ہے۔وہ آپ کو مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اس حادثہ کے بعد اور کون سا بڑا حادثہ ہے جس سے تم عبرت پکڑو گے۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خاں صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۳ صفحہ ۳۹۵ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۲۱؍ نومبر۱۸۹۸ء ’’ شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی… نے اِس راقم کی تحقیر اور توہین اور دشنام دہی میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی…میرے بعض دوستوں نے کمال نرمی اور تہذیب سے شیخ صاحب موصوف سے یہ درخواست کی تھی کہ … آپ مُباہلہ کرکے تصفیہ کرلیں کیونکہ جب کسی طرح جھگڑا فیصلہ نہ ہوسکے تو آخری طریق خدا کا فیصلہ ہے جس کو مباہلہ کہتے ہیں۔اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اثر مُباہلہ کے لئے اس طرف سے ایک سال کی شرط ہے اور یہ شرط الہام کی بنا پر ہے… شیخ محمد حسین نے … بجائے اس کے کہ نیک نیتی سے مُباہلہ کے میدان میں آتا یہ طریق اختیار کیا کہ ایک گندہ اور گالیوں سے پُر اشتہار لکھ کر محمد بخش جعفر زٹلّی اور ابوالحسن تبّتی کے نام سے چھپوا دیا۔اس وقت وہ اشتہار میرے سامنے رکھا ہے اور مَیں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے اور وہ دعا جو مَیں نے کی ہے یہ ہے کہ ’’اے میرے ذوالجلال پروردگار! اگر مَیں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) ان دونوں ناموں کے سامنے یہ دو الہام لکھے ہیں۔پہلا الہام جیسا کہ نواب محمد علی خان صاحبؓ کے متعلق ہے۔اسی طرح یہ دوسرا الہام مولوی محمد علی صاحب کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔