تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 224 of 1089

تذکرہ — Page 224

ترجمہ۔اورمَیں کہہ سکتا ہوں کہ مَیں اس گورنمنٹ کے لئے بطور ایک تعویذ کے ہوں اور بطور ایک پناہ کے ہوں جو آفتوں سے بچاوے اور خدا نے مجھے بشارت دی اور کہا کہ خدا ایسا نہیں کہ ان کو دُکھ پہنچاوے اور تُو اُن میں ہو۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۴۵) ۱۸۹۴ء (الف)’’ وَاِنِّیْ رَاَیْتُ عِیْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ مِرَارًا فِی الْمَنَامِ وَمِرَارًا فِی الْـحَالَۃِ الْکَشْفِیَّۃِ۔وَقَدْ اَکَلَ مَعِیَ عَلٰی مَآئِدَۃٍ وَّاحِدَۃٍ۔وَرَاَیْتُہٗ مَرَّۃً وَاسْتَفْسَرْتُہٗ مِـمَّا وَقَعَ قَوْمُہٗ فِیْہِ۔فَاسْتَوٰی عَلَیْہِ الدَّ ھْشُ وَ ذَکَرَ عَظْمَۃَ اللّٰہِ وَطَفِقَ یُسَبِّحُ وَیُقَدِّسُ وَاَشَارَ اِلَی الْاَرْضِ وَقَالَ اِنَّـمَا اَنَا تُرَابِیٌّ وَبَرِیْٓءٌ مِّـمَّا یَقُوْلُوْنَ۔فَرَاَیْتُہٗ کَالْمُنْکَسِرِیْنَ الْمُتَوَاضِعِیْنَ۔ترجمہ۔اور مَیں نے بارہا عیسیٰ علیہ السلام کو خواب میں دیکھا اور بارہا کشفی حالت میں ملاقات ہوئی۔اور ایک ہی خوان میں میرے ساتھ اُس نے کھایا اور ایک دفعہ مَیں نے اس کو دیکھا اور ا س فتنہ کے بارے میں پوچھا جس میں اس کی قوم مبتلا ہوگئی ہے۔پس اُس پر دہشت غالب ہوگئی اور خدا تعالیٰ کی عظمت کا اس نے ذکر کیا اور اُس کی تسبیح اور تقدیس میں لگ گیا اور زمین کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ مَیں تو صرف خاکی ہوں اور ان تہمتوں سے بَری ہوں جو مجھ پر لگائی جاتی ہیں۔پَس مَیں نے اس کو ایک متواضع اور کسرِ نفسی کرنے والا آدمی پایا۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۵۶، ۵۷) (ب)’’خدا کی عجیب باتوں میں سے جو مجھے ملی ہیں ایک یہ بھی ہے جو مَیں نے عین بیداری میں جو کشفی بیداری کہلاتی ہے یسوع مسیح سے کئی دفعہ ملاقات کی ہے اور اُس سے باتیں کرکے اس کے اصل دعویٰ اور تعلیم کا حال دریافت کیا ہے۔یہ ایک بڑی بات ہے جو توجہ کے لائق ہے کہ حضرت یسوع مسیح ان چند عقائد سے جو کفّارہ اور تثلیث اور ابنیّت ہے ایسے متنفّر پائے جاتے ہیں کہ گویا ایک بھاری اِفترا جو اُن پر کیا گیا ہے وہ یہی ہے۔یہ مکاشفہ کی شہادت بے دلیل نہیں ہے بلکہ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی طالب ِ حق نیّت کی صفائی سے ایک مدّت تک میرے پاس رہے اور وہ حضرت مسیح کو کشفی حالت میں دیکھنا چاہے تو میری توجہ اور دُعا کی برکت سے وہ ان کو دیکھ سکتا ہے۔اُن سے باتیں بھی کرسکتا ہے اور اُن کی نسبت اُن سے گواہی بھی لے سکتا ہے کیونکہ مَیں وہ شخص ہوں جس کی رُوح میں بروز کے طور پر یسوع مسیح کی رُوح سکونت رکھتی ہے۔‘‘ (تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد۱۲ صفحہ ۲۷۳)