تذکرہ — Page 141
اولاد بھی عطا کی اور اُن میں سے وہ لڑکا بھی جو دین کا چراغ؎۴ہوگا۔بلکہ ایک اور لڑکا ہونے کا قریب مدّت تک وعدہ دیا جس کا نام محمودؔ احمد ہوگا اور اپنے کاموں میں اولوالعزم نکلے گا۔‘‘ (اشتہار۱۵؍جولائی ۱۸۸۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۸۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) اگست ۱۸۸۸ء ’’ اللہ جلّ شانہٗ نے مجھے خبر دی کہ یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ صُلَحَآءُ الْعَرَبِ وَاَبْدَالُ الشَّامِ۔وَتُصَلِّیْ عَلَیْکَ الْاَرْضُ وَالسَّمَآءُ۔وَ یَـحْمَدُ کَ اللّٰہُ عَنْ عَرْشِہٖ۔‘‘؎۱ (از مکتوب بنام منشی مظہر حسین صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۶۶۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اگست ۱۸۸۸ء ’’بارہا غوث اورقطب وقت میرے پر مکشوف کئے گئے جو میری عظمتِ مرتبت پر ایمان لائے ہیں اور لائیں گے۔‘‘ (از مکتوب بنام منشی مظہر حسین صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۶۶۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اگست ۱۸۸۸ء ’’ اور مجھے بشارت دی ہے کہ جس نے تجھے شناخت کرنے کے بعد تیری دشمنی اور تیری مخالفت اختیار کی وہ جہنمی ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام منشی مظہر حسین صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۶۶۰ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۸ء ’’یہ بات کھلی کھلی الہام الٰہی نے ظاہر کردی کہ بشیر جو فوت ہوگیا ہے وہ بے فائدہ نہیں آیا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ امر کہ الہام میں یہ بھی تھا کہ اس عورت کا نکاح آسمان پر میرے ساتھ پڑھا گیا ہےیہ درست ہے مگر جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں اس نکاح کے ظہور کے لئے جو آسمان پر پڑھا گیا خدا کی طرف سے ایک شرط یہ بھی تھی جو اسی وقت شائع کی گئی تھی اور وہ یہ کہ اَیَّتُـھَاالْمَرْءَۃُ تُوْبِیْ تُوْبِیْ فَاِنَّ الْبَلَآءَ عَلٰی عَقِبِکِ۔۔۵؎ پس جب ان لوگوں نے اس شرط کو پورا کردیا تو نکاح فسخ ہوگیا یا تاخیر میں پڑ گیا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۵۷۰) ۲ مندرجہ اشتہار مورخہ دہم جولائی ۱۸۸۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۱۷۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء۔(مرزا بشیر احمد) ۳ یعنی محمدی بیگم بنت مرزا احمد بیگ کے رشتہ کی۔(مرزا بشیر احمد) ۴ (نوٹ از حضرت مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی بشیر اوّل جو ۷؍اگست۱۸۸۷ء کو پیدا ہوا اور۴؍ نومبر۱۸۸۸ء کو فوت ہوگیا اور ا س کے متعلق جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’دین کا چراغ‘‘ لکھا ہے یہ اُس زمانہ سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ابھی آپ پر یہ بات نہیں کھلی تھی کہ ۲۰؍فروری۸۸۶اء والے الہام میں دراصل دو لڑکوں کی خبر دی گئی تھی۔ایک وہ لڑکا جو مہمان کے طور پر آنے والا تھا اور اُس نے دوسرے لڑکے کے لئے بطور ارہاص کے ہونا تھا اور دوسرا وہ جو عمر پانے والا تھا ۵ (ترجمہ از ناشر) اے عورت! توبہ کر توبہ کر کیونکہ بلا تیری نسل کے سر پر کھڑی ہے۔