تذکرہ — Page 91
دوسری قراءت درج نہیں کی گئی۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۲۴۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۸۳ء ’’ ۱۔اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْکَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ۔۱۔اس جگہ ایک فتنہ ہے۔سو اولوالعزم نبیوں کی طرح صبر کر۔۲ فَلَمَّا تَـجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا۔۲۔جب خدا مشکلات کے پہاڑ پر تجلّی کرے گا تو انہیں پاش پاش کردے گا۔۳ قُوَّۃُ الرَّحْـمٰنِ لِعُبَیْدِ اللّٰہِ الصَّمَدِ۔۳۔یہ خدا کی قوت ہے کہ جو اپنے بندے کے لئے وہ غنی مطلق ظاہر کرے گا۔۴۔مَقَامٌ لَّا تَتَرَقَّی الْعَبْدُ فِیْہِ بِسَعْیِ الْاَعْـمَالِ۔۴یعنی عبداللہ الصمد ہونا ایک مقام ہے کہ جو بطریق موہبتِ خاص عطاہوتا ہے کوششوں سے حاصل نہیں ہوسکتا۔۵ یَا دَاوٗدُ عَامِلْ بِالنَّاسِ رِفْقًا وَّ اِحْسَانًا۔۶۔وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّۃٍ فَـحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْـھَا۔۷۔وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَـحَدِّ۔ثْ۔۸یُو مَسٹ ڈو وہاٹ آی ٹولْڈ یُو؎۱۔تم کو وہ کرنا چاہیے جو میں نے فرمایا ہے۔۹۔اُشْکُرْ نِعْمَتِیْ رَاَیْتَ خَدِ یْـجَتِیْ۔۱۰۔اِنَّکَ الْیَوْمَ لَذُ۔وْ حَظٍّ عَظِیْمٍ۔۱۱۔اَنْتَ مُـحَدَّ۔ثُ اللّٰہِ۔فِیْکَ مَآ دَّۃٌ فَارُوْقِیَّۃٌ۔۵۔اے داؤد خلق اللہ کے ساتھ رفق اور احسان کے ساتھ معاملہ کر ۶۔اور سلام کا جواب احسن طور پر دے ۷اور اپنے ربّ کی نعمت کا لوگوں کے پاس ذِکر کر۔۹میری نعمت کا شکر کر کہ تُونے اُس کو قبل از وقت پایا۔۱۰آج تجھے حظِّ عظیم ہے۔۱۱تُو محدّث اللہ ہے۔تجھ میں مادئہ فاروقی ہے۔۱۲۔سَلَامٌ عَلَیْکَ یَـآ اِبْـرَاھِیْمُ۔اِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَکِیْنٌ اَمِیْنٌ۔۱۳۔ذُوْ عَقْلٍ مَّتِیْنٍ۔۱۴۔حِبُّ اللّٰہِ ۱۵۔خَلِیْلُ اللّٰہِ ۱۶۔اَسَدُ اللّٰہِ ۱۷۔وَصَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ۔۱۸۔مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی۔۱۹۔اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْ۔رَکَ۔۲۰۔اَلَمْ نَـجْعَلْ لَّکَ سُھُوْلَۃً فِیْ کُلِّ اَمْرٍ۔۲۱۔بَیْتُ الْفِکْرِ وَ بَیْتُ الذِّکْرِ۔۲۲۔وَمَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا۔۱۲تیرے پر سلام ہے اے ابراہیم تو آج ہمارے نزدیک صاحبِ مرتبہ اور امانت دار اور ۱۳قوی العقل ۱ ۸۔You must do what I told you۔