تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 788 of 1089

تذکرہ — Page 788

۵۲۔(الف) میاں فضل محمد صاحب ہرسیاں والے حافظ حامد علی صاحب ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ۔’’ ایک دفعہ مجھے۱؎حضرت اقدس ؑنے ایک کام کے لئے ایک غیر ملک میں بھیجا۔ایک مقررہ جہاز پر روانہ ہوا۔جب جہاز نصف سفر طے کرچکا تو سمندر میں طوفان کے آثار دکھائی دیئے اور ایسا معلوم ہوا کہ جہاز غرق ہونے لگا ہے۔لوگ چِلّانے لگے اور جہاز میں شورِ قیامت برپا ہوگیا۔لوگ روتے اور آہ و بُکا کرتے تھے۔مَیں نے بڑے زور اور دعویٰ سے کہا کہ مَیں پنجاب سے آیا ہوں اور مَیں ایسے شخص کے کام کو جارہا ہوں جسے خدا نے اِس زمانہ کا نبی بناکر بھیجا ہے اِس لئے جب تک مَیں اِس جہاز میں سوار ہوں خدا تعالیٰ اِس جہاز کو غرق نہیں کرے گا چنانچہ خدا تعالیٰ نے اس حالت کو بدل دیا اور جہاز طوفانی حالت سے نکل کر خیریت سے کنارے جا لگا اور مَیں اپنی جگہ پر اُتر گیا اور جہاز آگے روانہ ہوگیا۔مگر تھوڑی دُور ہی گیا تھا کہ غرق ہوگیا… ہندوستان میں جب اِس جہاز کے غرق ہونے کی اطلاع آئی تو میرے عزیز روتے ہوئے حضرت ؑ کے پاس گئے اور کہا جس جہاز پر حامد علی سوار تھا وہ غرق ہوگیا ہے۔حضور ؑ نے فرمایا کہ ہاں سنا تو ہے کہ جس جہاز پر حامد علی سوار تھا وہ فلاں تاریخ غرق ہوگیا ہے۔یہ کہہ کر حضور ؑ خاموش ہوگئے لیکن تھوڑی دیر کے بعد فرمایا مگر حامد علی اپنا کام کر رہا ہے،وہ غرق نہیں ہوا۔بعد کے واقعات نے حضور ؑ کے اِس ارشاد کی تائید کی۔معلوم ایسا ہوتا ہے کہ حضورؑ کو کشفی طور پر سارا واقعہ دکھا یا گیا۔‘‘ (الحکم جلد ۳۸ نمبر ۲مورخہ ۲۱؍ جنوری ۱۹۳۵ء صفحہ ۵) (ب) شیخ زین العابدین صاحب ؓ برادر حافظ حامد علی صاحب ؓنے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’حافظ حامد علی کی نسبت تو مجھے الہام بھی ہوچکا ہے کہ یہ زندہ آئے گا اور فائدہ حاصل کرکے آئے گا۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۱۱صفحہ ۵۴) ۵۳۔شیخ فضل الٰہی صاحبؓ چٹھی رساں نے بیان کیا کہ۔’’ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ مَیں ڈاک لے کر حضور ؑ ( کی خدمت ) میں جارہا تھا۔جب ڈپٹی شنکرداس کے مکان۲؎ کے آگے سے گزرا تو مکان کے آگے چبوترہ پر ڈپٹی مذکور چارپائی پر بیٹھا تھا۔مجھے (اوشیخ) پکار کر کہا کہ ۱ یعنی حافظ حامد علی صاحبؓ کو۔(عبد اللطیف بہاولپوری) ۲ (نوٹ از سیّد عبد الحی ٔ) یہ گھر جماعت نے ستمبر ۱۹۳۱ء کے لگ بھگ خریدا تھا۔خرید کے وقت نہ تو پلستر شدہ تھا