تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 773 of 1089

تذکرہ — Page 773

کھانسی میں اچھی نہیں۔آپ پھر مسکرائے اور کھاتے رہے۔مَیں نے اپنی نادانی سے پھر اصرار کیا کہ نہیں کھانا چاہیے۔اس پر آپ پھر مسکرائے اور فرمایا مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ۔’’ کھانسی دُور ہوگئی‘‘ چنانچہ کھانسی اُسی وقت سے جاتی رہی۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۴۲ء۔الفضل جلد ۳۰ نمبر ۱۶۴ مورخہ ۱۷؍ جولائی ۱۹۴۲ء صفحہ ۳ کالم نمبر ۲ و ۳) ۱۹۰۸ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ ’’ حضرت صاحبؑ کو الہام ہوا تھا۔سپُردَم بَتُومایهءِ خویش را تُو دانی حسابِ کم و بیش را ‘‘ ۱؎ (منصب ِ خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۵۵ و برکاتِ خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۷۳ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ پاکستان) ۱۹۰۸ء حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ حضرت صاحبؑ نے فرمایا۔’’خدا نے مجھے بتلایا ہے کہ لنگر جب تک تمہارے ہاتھ میں ہے چلتا رہے گا۔اگر مَیں اسے ان کے ہاتھ میں دے دوں تو یہ چند دنوں میں ہی بند ہوجاوے۲؎۔‘‘ (از خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۲؍ فروری ۱۹۱۵ء۔خطبات محمود (خطبات جمعہ) جلد ۴ صفحہ ۲۷۱ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ پاکستان) ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے اپنی پونجی تیرے سپرد کی۔کم و بیش کا حساب تو جانتا ہے۔۲ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یعنی وہ لوگ جو لنگر خانہ کے خرچ پر اعتراض کرتے تھے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔جب حضور علیہ السلام لاہور میں تھے تو ان میں سے ایک نے اپنے دوست کے نام لاہور ان دنوں قادیان سے ایک خط لکھا تھا اور اس میں ظاہر یہ کیا تھا کہ لنگر خانہ کا خرچ آمد سے بہت کم ہے اور جو روپیہ حضرت صاحب ؑ کے پاس آتا ہے وہ سب لنگر خانہ میں نہیں بلکہ اپنے گھر میں او ر اپنے لوگوںپر نامناسب طور پر خرچ ہوتا ہے …یہ خط وفات سے کچھ روز ہی پہلے لاہور بھیجا گیا اور اس کا علم حضرت اقدس علیہ السلام مغفور کو بھی ہوگیا تو آپ ؑ کو بہت رنج ہوا۔(ا لفضل مورخہ ۲۷ ؍ مئی ۱۹۱۴ء صفحہ ۲۱) اور فرمایا کہ ’’ایسا لکھنے والا احمق ہے وہ بیوقوف ہے۔وہ نہیں دیکھتا کہ مہمان تو یہاں آرہے ہیں قادیان میں اَب جاتا کون ہے۔اسے چاہیےتھا کہ وہ لاہور اور قادیان کا خرچ جمع کرکے دیکھتا کہ کتنا ہے۔‘‘ (ا لفضل مورخہ ۲۵ ؍ فروری۱۹۱۵ء صفحہ ۶)