تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 767 of 1089

تذکرہ — Page 767

۱۹۰۲ء (سردار ماسٹر عبدالرحمٰن صاحب ؓ جالندھری ) بیان کرتے ہیں۔’’جن ایام میں پیر مہر علی گولڑوی کو حضور ؑ نے مقابلۃً تفسیر نویسی لکھنے کا چیلنج دیا ہوا تھا حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا کہ بعض لوگ حضور ؑ کی جان پر حملہ کرنے کو آئیں گے۔چونکہ مَیں حضرت اقدس ؑ کے مکانات کے پہرہ کا انتظام کیا کرتا تھا مجھے پتہ لگا کہ ضلع راولپنڈی کے دو تین اشخاص جو پیر مہر علی شاہ کے فرستادہ معلوم ہوتے تھے، لوگوں سے حضرت مسیح موعود ؑ کی بود و باش، رہائش مکان اور اندر باہر آنے جانے کی جستجو کرتے تھے۔مَیں نے حضرت اقدس ؑ کو اطلاع کردی۔حضور ؑ نے حاکم علی سپاہی کے ذریعہ ان لوگوں کو بٹالہ پہنچا دیا۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد ۷ صفحہ ۱۵۳ مطبوعہ اگست ۱۹۶۰ء) ۱۹۰۳ء (الف) ’’اگست ۱۹۰۳ء میں بنّوں کا ایک عیسائی گل محمد نام قادیان آیا۔بہت گستاخی سے جھگڑتا اور بحث کرتا رہا اور اسی حالت میں چلاگیا۔اُس کے چلا جانے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک رؤیا دیکھا کہ گل محمد آنکھوں میں سُرمہ لگارہا ہے۔فرمایا۔معلوم ہوتا ہے کہ اُسے ہدایت ہوجائے گی چنانچہ بہت سالوں کے بعد سنا گیا تھا کہ اُس نے پھر اسلام قبول کیا تھا۔بنّوں کے مشہور ڈاکٹر پینل۱؎ کی بیوہ نے بھی مجھے اپنے کارڈ میں لکھا ہے کہ گل محمد نے عیسائیت کو ترک کردیا تھا اور اپنے پہلے مذہب میں داخل ہوگیا تھا۔‘‘ (ذکر حبیب مؤلفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۱۱۱ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) (ب) ’’مولوی محمد دین صاحبؓ ناظر تعلیم و تربیت صدر انجمن احمدیہ ربوہ نے یوں بیان کیا کہ ’’ اُس کے چلے جانے کے بعد دوسرے دن یا چند روز بعد ایک دن آپ ؑ نے فرمایا مَیں نے اس شخص کورؤیامیں دیکھا کہ مجھ سے سُرمہ دانی یا سُرمہ کی سلائی مانگتا ہے۔فرمایا کہ اس کے معنی ہیں کہ وہ مجھ سے نُور و ہدایت کا طلب گار ہے۔‘‘ (الفضل جلد ۲۹ نمبر ۲۷۶ مورخہ ۵؍ دسمبر ۱۹۴۱ء صفحہ ۱۰) جنوری ۱۹۰۴ء فرمایا ۱۵ یا ۲۰ دن یا شاید ایک ماہ کا عرصہ ہوا ہے مجھے الہام ہوا تھا۔’’ایک وارث احمدی فوت ہوگیا۔‘‘ (ضمیمہ اخبار بدر جلد ۳ نمبر ۶ مورخہ ۸؍فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۴، ۵) ۱ Dr۔Pennell