تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 754 of 1089

تذکرہ — Page 754

۶؍ اپریل۱۸۹۴ء مرزا ایوب بیگ صا۱؎حبؓ بیان کرتے ہیں کہ (جب رمضان شریف میں ) ۶؍ اپریل ۱۸۹۴ء کو گرہن لگنا تھا …کئی دوستوں نے شیشے پر سیاہی لگائی ہوئی تھی جس میں سے وہ گرہن دیکھنے میں مشغول تھے۔ابھی خفیف سی سیاہی شیشے پر شروع ہوئی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کسی نے کہا کہ سورج کو گرہن لگ گیا ہے آپ ؑ نے اس شیشہ میں سے دیکھا تو نہایت ہی خفیف سی سیاہی معلوم ہوئی۔حضور ؑ نے اظہارِ افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ اِس گرہن کو ہم نے تو دیکھ لیا مگر یہ ایسا خفیف ہے کہ عوام کی نظر سے اوجھل رہ جائے گا اور اِس طرح ایک عظیم الشان پیشگوئی کا نشان مشتبہ ہوجائے گا…تھوڑی دیر بعد سیاہی بڑھنی شروع ہوئی۔حتی کہ آفتاب کا زیادہ حصّہ تاریک ہوگیا۔تب حضور ؑ نے فرمایا کہ۔’’ہم نے آج خواب میں پیاز دیکھا تھا۔اس کی تعبیر غم ہوتی ہے۔سو شروع میں سیاہی کے خفیف رہنے سے یہ غم ظہور میں آیا۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم اے۔جلد ۱ صفحہ ۸۰،۸۱ مطبوعہ ۱۹۵۱ء ) ۳۱؍ جولائی۱۸۹۴ء ’’بروز دو شنبہ بعد از نماز ظہر حضرت مسیح موعود مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو یہ الہام۲؎ہوا۔اَمِدُّ وْا لَیْلَۃً اَ زْھَی اللَّیَالِیْ یعنی اس رات کو عبادت ، تسبیح ، تہلیل ، تکبیر اور درُود و استغفار وغیرہ میں شاغل رہو کیونکہ یہ رات۳؎تمام راتوں سے افضل اور خوبصورت تر ہے۔‘‘ (تذکرۃ المہدی مصنفہ پیر سراج الحق صاحبؓ نعمانی حصّہ دوم صفحہ ۱۶ مطبوعہ دسمبر ۱۹۲۱ء۔البشریٰ قلمی نسخہ مرتبہ پیر سراج الحق صاحب ؓ نعمانی صفحہ ۶۶) ۱۶؍ مارچ۱۸۹۵ء ’’احمد ِ زمان اس زمانہ کا احمد ‘‘ (تحریر حکیم مولوی قطب الدین صاحبؓ بواسطہ حکیم عبداللطیف۴؎ صاحب گجراتی) ۱ (نوٹ از ناشر) برادر مکرم ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحبؓ ابن مرزا نیاز بیگ صاحبؓ کلانوری۔۲ پیر سراج الحق صاحب ؓ لکھتے ہیں۔’’حضور مسیح موعود علیہ السلام کے حکم سے لکھا گیا جو فرمایا تھا کہ کہیں یادداشت لکھ رکھو۔‘‘ (تذکرۃ المہدی حصّہ دوم صفحہ ۱۶ ) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی شب سہ شنبہ ۲۷ محرم الحرام ۱۳۱۲ھ مطابق ۳۱ ؍ جولائی ۱۸۹۴ء۔تقویم عمری ۱۷۸۳ء تا ۱۹۰۷ء صفحہ ۲۲۸۔البشریٰ صفحہ ۶۶ حاشیہ نمبر ۳۔تذکرۃ المہدی حصہ دوم صفحہ ۱۶۔۴ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) حکیم عبداللطیف صاحب گجراتی نے خاکسار سے بیان کیا کہ یہ اور اس سے اگلے پانچ الہامات مَیں نے حکیم مولوی قطب الدین صاحب ؓ کے قرآن مجید سے نقل کئے ہیں۔ان کا بیان ہے کہ ’’یہ حضرت مسیح موعود ؑ نے لکھوائے تھے۔‘‘