تذکرہ — Page 638
(ب) ’’ ۳۰؍ جولائی ۱۹۰۶ء میں اور بعد اس کے اَور کئی تاریخوں میں وحیِ الٰہی کے ذریعہ سے بتلایا گیا کہ ایک شخص اِس جماعت میں سے ایک دم میں دُنیا سے رخصت ہوجائے گا اور پیٹ پھٹ جائے گا اور شعبان کے مہینہ میں وہ فوت ہوگا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۳۵) (ج) ’’میں نے دیکھا کہ مولوی نور دین صاحب نے ایک پروف بھیجا ہے اور لانے والے نے مجھ کو کہا کہ مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ حاشیہ کو دیکھ لیں۔جب میں نے حاشیہ کی عبارت دیکھی تو اس میں لکھا ہوا (تھا)۔دشمن نہایت اضطراب میں ہے۔‘‘ (کاپی الہامات۱؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۷۵) ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء ۱۔’’ پنج بار خدا اس کو ہلاکت سے بچائے گا۔‘‘ ۲۔’’ يٰۤاَ۔يُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجَاةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَيْنَا اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ۔‘‘ ۲؎ ۳۔(رؤیا) ’’ ۱۳؍ستمبر ۱۹۰۶ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک فراخ اور نہایت خوبصورت چوغہ پہنے ہوئے میں کسی طرف جارہا ہوں۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۷۴، ۱۷۳) ۱۵؍ ستمبر۱۹۰۶ء ’’فرمایا۔گھر میں ایک چوکھٹ کے اندر ایک قطعہ لگا ہوا ہے جس پر لکھا ہے۔رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَ۳؎ بقیہ حاشیہ۔۳۔رَبِّ لَا تُبْقِ لِیْ مِنَ الْمُخْزِیَاتِ ذِکْرًا۔۴۔پیٹ پھٹ گیا۔(معلوم نہیں کہ یہ کس کے متعلق الہام ہے)‘‘ جبکہ الحکم مورخہ ۱۰ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱ میں الہام نمبر ۲ و ۵ درج ہے اور الحکم مورخہ ۱۷ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱ میں الہام نمبر ۳ و۴ درج ہیں۔۱ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۳ ستمبر ۱۹۰۶صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۷ ستمبر۱۹۰۶صفحہ ۱ میں یہ رؤیا ان الفاظ میں درج ہے۔’’رؤیا۔دیکھا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب نے ایک کاغذ بھیجا ہے جو پروف کی طرح ہے۔جو لڑکا لے کر آیا ہے وہ کہتا ہے کہ اس کے حاشیہ پر سطر ہے ذرا پڑھ لینا۔اُس کاغذ کے دائیں طرف کے حاشیہ پر لکھا ہے۔دشمن نہایت اضطراب میں ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ از ناشر) اے صاحب اختیار! ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو بہت تکلیف پہنچی ہے اور ہم تھوڑی سی پونجی لائے ہیں۔پس ہمیں بھرپور تو عطا کر اور ہم پر صدقہ کر۔یقیناً اللہ صدقہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔۳ (ترجمہ از ناشر) اے میرے ربّ ہر چیز تیری خادم ہے۔