تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 628 of 1089

تذکرہ — Page 628

قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔حَلَّ غَضَبُہٗ عَلَی الْاَرْضِ۔اِنِّیْ صَادِقٌ اِنِّیْ صَادِقٌ قوی اور غالب ہے۔اس کا غضب زمین پر نازل ہوگا۔مَیں صادق ہوں مَیں صادق ہوں اور وَّ یَشْھَدُ اللّٰہُ لِیْ۔اے اَزلی اَبدی خدا بیڑیوں کو پکڑ کے آ۔ضَاقَتِ الْاَرْضُ خدا میری گواہی دے گا۔اے اَزلی اَبدی خدا میری مدد کے لئے آ۔زمین باجود فراخی کے مجھ پر تنگ بِـمَا رَحُبَتْ۔رَبِّ اِنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِـرْ۔فَسَحِّقْھُمْ تَسْحِیْقًا۔زندگی کے ہوگئی ہے۔اے میرے خدا مَیں مغلوب ہوں میرا انتقام دشمنوں سے لے۔پس ان کو پِیس ڈال کہ وہ زندگی کی فیشن سے دُور جا پڑے ہیں۔اِنَّـمَا اَمْرُکَ اِذَا اَرَدْتَّ شَیْئًا اَنْ تَقُوْلَ لَہٗ وضع سے دُور جاپڑے ہیں۔تُو جس بات کا ارادہ کرتا ہے وہ تیرے حکم سے فی الفور کُنْ فَیَکُوْنَ۔تو در منزلِ ما چو بار بار آئی۔خدا ابر رحمت ببارید یانے۔اِنَّـا اَمَتْنَا ہوجاتی ہے۔اے میرے بندے چونکہ تُو میری فرودگاہ میں بار بار آتا ہے اِس لئے اب تُو خو دیکھ لے کہ تیرے اَرْبَعَۃَ عَشَـرَ دَ۔وَابًّـا۔ذٰلِکَ بِـمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُ۔وْنَ۔پر رحمت کی بارش ہوئی یا نہ۔ہم نے چودہ ۱؎چارپایوں کو ہلاک کردیا کیونکہ وہ نافرمانی میں حد سے گزر گئے تھے۔سرانجامِ جاہل جہنّم بود۔کہ جاہل نکو عاقبت کم بود۔میری فتح ہوئی میرا غلبہ ہوا۔اِنِّیْ اُمِّرْتُ جاہل کا انجام جہنّم ہے۔جاہل کا خاتمہ بالخیر کم ہوتا ہے۔میری فتح ہوئی میرا غلبہ ہوا۔مَیں خدا کی طرف سے مِنَ الرَّحْـمٰنِ فَاْتُوْنِیْ۔اِنِّیْ حِـمَی الرَّحْـمٰنِ۔اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْـحَ یُوْسُفَ خلیفہ کیا گیا ہوں پس تم میری طرف آجاؤ۔مَیں خدا کا چراگاہ ہوں اور مجھے گُم گشتہ یوسف کی خوشبو لائی ہے لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنَ۔اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِاَصْـحَابِ الْفِیْلِ۔اَ۔لَمْ اگر تم یہ نہ کہو کہ یہ شخص بہک رہا ہے۔کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رَبّ نے اصحاب ِ فِیل کے ساتھ کیا کِیا۔کیا اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’بابو الٰہی بخش صاحب گیارہ چارپایوں کے ہلاک ہونے کے بعدطاعون کے ساتھ ہلاک کئے گئے جیسا کہ اِس الہامی شعر میں ہے۔برمقام فلک شدہ یاربّ گر امیدے دہم مدار عجب بعد گیاراں۔اِس سے معلوم ہوا کہ بابو صاحب کا بارھواں نمبر تھا اور ان کے بعد دو اَور ہیں تا چودہ پورے ہوجاویں۔منہ‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۸۹حاشیہ)