تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 591 of 1089

تذکرہ — Page 591

’’کئی آفتیں اور مصیبتیں ہم پر نازل ہوگئی ہیں۔‘‘ ۱؎ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خاں صاحبؓ آف <mark>ما</mark>لیر کوٹلہ۔مکتوباتِ احمد جلد دوم صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۹؍مئی ۱۹۰۶ء ’’۱۔یُلْقِی الرُّوْحَ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ۔۲؎ ۲۔برہمن اوتار سے مقابلہ کرنا اچھا نہیں۔۳۔خدا کے مقبولوں میں قبولیت کی علامتیں اور نمونے ہوتے ہیں اور وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔‘‘ (کاپی الہا<mark>ما</mark>ت حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۵۳) ۳۰؍ مئی۱۹۰۶ء ’’۱۔خدا کے مقبولوں میں قبولیت کے نمونے اور علامتیں ہوتی ہیں اور وہ سلامتی۳؎ کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ان پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔فرشتوں۴؎ کی کھنچی ہوئی تلوار تیرے آگے ہے پر تونے وقت کو نہ پہچانا۵؎ نہ دیکھا نہ جانا۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اِسی خط میں تحریر فر<mark>ما</mark>تے ہیں۔’’مَیں ت<mark>ما</mark>م دن اِس الہام کے بعد غمگین رہا کہ یہ کیسا بھید ہے۔آج خط پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ آپ کا پیغام خدا تعالیٰ نے پہنچایا تھا۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خاں صاحب آف <mark>ما</mark>لیر کوٹلہ۔مکتوباتِ احمدجلد ۲صفحہ ۲۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲ (ترجمہ) ۱۔خدا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نبوت کی روح اس پر ڈالتا ہے۔(بدر مورخہ ۷؍ جون ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فر<mark>ما</mark>تے ہیں۔’’یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عبدالحکیم خاں کے اس فقرہ کا رَدّ ہے کہ جو مجھے کاذب اور شریر قرار دے کر کہتا ہے کہ صادق کے سامنے شریر فنا ہوجائے گا۔گویا مَیں کاذب ہوں اور وہ صادق اور وہ مرد صالح ہے اور مَیں شریر اور خدا تعالیٰ اس کے رَدّ میں فر<mark>ما</mark>تا ہے کہ جو خدا کے خاص لوگ ہیں وہ سلامتی کے شہزادے کہلاتے ہیں۔ذِلّت کی موت اور ذِلّت کا عذاب ان کو نصیب نہیں ہوگا۔اگر ایسا ہو تو دُنیا تباہ ہوجائے اور صادق اور کاذب میں کوئی امر فارق نہ رہے۔‘‘ (اشتہار ۱۶ ؍ اگست ۱۹۰۶ء مشمولہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۱۱ حاشیہ ) ۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فر<mark>ما</mark>تے ہیں۔’’فرشتوں کی کھنچی ہوئی تلوار سے آس<mark>ما</mark>نی عذاب مراد ہے کہ جو بغیر ذریعہ انسانی ہات<mark>ھو</mark>ں کے ظاہر ہوگا۔‘‘ (اشتہار ۱۶؍ اگست ۱۹۰۶ء مشمولہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۱۱ حاشیہ ) ۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فر<mark>ما</mark>تے ہیں۔’’یعنی تُو نے یہ غور نہ کی کہ کیا اس ز<mark>ما</mark>نہ میں اور اس نازک وقت میں اُمّتِ محمدیہ کے لئے کسی دجّال کی ضرورت ہے یا کسی مصلح اور مجدّد کی۔‘‘ (اشتہار ۱۶؍ اگست ۱۹۰۶ء مشمولہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۱۱ حاشیہ )