تذکرہ — Page 581
۱۸؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’ اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸۶) ۲۰؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’الہام۔اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸۹) ۲۳؍ اپریل ۱۹۰۶ء ’’ رَبِّ لَاتُضَیِّعْ عُـمُرِیْ وَ عُـمُرَھَا۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸۶) ۲۴؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’فرمایا۔آج رات بیماری کی حالت میں الہام ہوا تھا۔اِشْفِنِیْ مِنْ لَّدُ نْکَ وَارْحَـمْنِیْ۔‘‘ ۳؎ (بدر جلد ۲ نمبر۱۷ مورخہ۲۶ ؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۴ مورخہ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ۱) ۲۵؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’الہام۔وَ إِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْـرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸۶) ۲۶؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’ ۱۔حقِّ اولاد دَر اولاد ۵؎ ۱ (ترجمہ از مرتّب) یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔یہ مقام تجھے کہاں سے حاصل ہوا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اے میرے ربّ میری او ر اس کی عمر کو ضائع نہ کریو۔۳ (ترجمہ) مجھے اپنی طرف سے شفا بخش اور رحم کر۔(بدر مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۴ (ترجمہ از ناشر) اور مشرکوں میں سے اگر کوئی تجھ سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دے۔۵ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔(الف) ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک الہام ہے جو پہلے کبھی شائع نہیں ہوا کہ حق اَولاد در اَولاد یعنی اَولاد کا حق اس کے اندر موجود ہے۔یہ ضرور ی نہیں کہ اِس جگہ اَولاد سے مراد صرف جسمانی اَولاد مراد ہو بلکہ ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا وہ آپ ؑ کی روحانی اَولاد میں شامل ہے۔‘‘ (الفضل لاہور مورخہ۲۶؍ نومبر ۱۹۴۷ء صفحہ ۴) (ب) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام وفات پاگئے۔آپ ؑ کی وفات کے بعد والدہ مجھے بَیت الدُّعا میں لے گئیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہاموں والی کاپی میرے سامنے رکھ دی اور کہا مَیں سمجھتی ہوں یہی تمہارا