تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 569 of 1089

تذکرہ — Page 569

۱۱؍ مارچ۱۹۰۶ء ’’ چُو دَورِ خسروی آغاز کردند مسلماں را مسلماں باز کردند۱؎ دَورِ خسروی سے مراد اِس عاجز کا عہد ِ دعوت ہے مگر اِس جگہ دنیا کی بادشاہت مراد نہیں بلکہ آسمانی بادشاہت مراد ہے جو مجھ کو دی گئی۔خلاصہ معنے اِس الہام کا یہ ہے کہ جب دَورِ خسروی یعنی دَورِ مسیحی جو خدا کے نزدیک آسمانی بادشاہت کہلاتی ہے ششم ہزار کے آخر میں شروع ہوا جیسا کہ خدا کے پاک نبیوں نے پیشگوئی کی تھی تو اُس کا یہ اثر ہوا کہ وہ جو صرف ظاہری مسلمان تھے وہ حقیقی مسلمان بننے لگے جیسا کہ اَب تک چار لاکھ کے قریب بن چکے ہیں۔‘‘ (تجلّیاتِ الٰہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۹۶ ،۳۹۷) ۱۲؍ مارچ۱۹۰۶ء ۱۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔۲۔وَلِنَجْعَلَ لَکَ سُھُوْلَۃً فِیْ کُلِّ اَمْرٍ ۳۔اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَایُرِ۲؎یْدُ۔۴۔فِیْ کُلِّ حَالٍ مِّنَ الصَّالِـحِیْنَ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹) ۱۳؍ مارچ ۱۹۰۶ء ’’۱۔مردوں کو جتنے چاہو ساتھ لے جاؤ مگر عورتیں نہ جائیں۔۲۔اِنَّـا اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَ بِّکَ وَانْـحَرْ۔اِنَّ شَاْنِئَکَ ھُوَالْاَ بْتَرُ۔۳۔وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْـرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ۔۴۔سَوَآءٌ عَلَیْـھِمْ ءَ اَنْذَ رْتَـھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِ رْھُمْ لَا یُـؤْمِنُوْنَ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹ بدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخہ ۱۶ ؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۹ مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۱ ) ۱ (ترجمہ از ناشر) جب (ہمارا) شاہی زمانہ شروع ہوا تو مسلمانوں کو دوبارہ مسلمان کیا گیا۔(نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ و الحکم مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ اور کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹ پر بھی یہ شعر درج ہے۔کاپی الہامات میں اس الہامی شعر کے بعد درج ہے کہ ’’اگر تمام دنیا ایک طرف ہوجائے اور میں ایک طرف ہوجاؤں تب بھی میں اپنے زندہ خدا کا دامن نہیں چھوڑوں گا۔‘‘ ۲ (ترجمہ) ۱۔مَیں اپنی فوجوں کے ساتھ اچانک تیرے پاس آؤں گا۔۲۔اور تاکہ ہر بات میں تیرے واسطے ہم آسانی کردیں۔۳۔تحقیق تیرا ربّ کرنے والا ہے جو کچھ کہ چاہے۔(بدر مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۴۔وہ ہر حال میں صالحین میں سے ہے۔(نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۶ ؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۱۷؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۱ میں الہام ’’فِیْ کُلِّ حَالٍ مِّنَ الصَّالِـحِیْنَ۔‘‘ درج نہیں۔۴ (ترجمہ) ۲۔تحقیق ہم نے تجھے کوثر عطا کیا۔پس نماز پڑھ اپنے ربّ کے لئے اور قربانی کر۔تحقیق تیرا دشمن بے نسل ہے۔۳۔اگر مشرکین میں سے کوئی تیری پناہ چاہے تو اُسے پناہ دے ۴۔ان کے لئے برابر ہے کہ تو انہیں ڈرائے یا نہ ڈرائے۔وہ نہیں ایمان لائیں گے۔(بدر مورخہ ۱۶؍مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ ۲)