تذکرہ — Page 568
۵۔خدا نے تیری ساری باتیں پوری کردیں۔یعنی خدا تمام کام تیری مراد کے موافق کرے گا۔۶۔وَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُ ھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ۔۱؎ یاد رہے کہ قرآن کریم کے طرزِ بیان کے موافق اِس آیت کے یہ معنے ہیں کہ میری زندگی میں مخالفین کو بشرط نہ کرنے توبہ کے ان کی زبان درازیوں اور شوخیوں کی کچھ سزا دے گا کیونکہ انہوں نے تقویٰ سے کام نہ کیا۔۷۔قُلْ اِنَّ صَلوٰتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَـحْیَایَ وَ مَـمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔۲؎ اور پھر زلزلہ کی طرف اشارہ کرکے یہ الہام ہوا۔۸۔رَبِّ اَرِنِیْ اٰیَۃً مِّنَ السَّمَآءِ۔اِکْـرَامٌ مَّعَ الْاِنْعَامِ۔‘‘۳؎ ( بدر جلد۲ نمبر۱۱مورخہ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲۔الحکم ضمیمہ مورخہ ۱۰؍ مارچ۱۹۰۶ء) ۱۹۰۶ء ’’وہ فرماتا ہے کہ مَیں چوروں کی طرح پوشیدہ آؤں گا۔یعنی کسی جوتشی یا مُلہم یا خواب بین کو اُس وقت کی خبر نہیں دی جائے گی بجز اس قدر خبر کے جو اُس نے اپنے مسیح موعود کو دے دی یا آئندہ اس پر کچھ زیادہ کرے۔ان نشانون کے بعد دنیا میں ایک تبدیلی پیدا ہوگی اور اکثر دل خدا کی طرف کھینچے جائیں گے اور اکثر سعید دلوں پر دنیا کی محبّت ٹھنڈی ہوجائے گی اور غفلت کے پردے درمیان سے اُٹھا دیئے جائیں گے اور حقیقی اسلام کا شربت اُنہیں پلایا جائے گا۔‘‘ (تجلّیاتِ الٰہیہ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۹۶) ۱ (ترجمہ) اور وہ تمام عذاب کہ مخالفین، منکرین، ظالمین کے لئے خدا کا وعدہ ہے۔خدا یا تو ان میں سے کچھ تجھے دکھلا دے گا اور یا تجھے وفات دے گا۔اور بعد میں وہ سب کچھ پورا کرے گا۔(بدر مورخہ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲) ۲ (ترجمہ) کہو کہ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا محض خدا کے لئے ہے جو ربّ العالمین ہے نہ کسی اَور کام کے لئے۔(بدر مورخہ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲) ۳ (ترجمہ) اے میرے ربّ ! مجھے آسمان سے ایک نشان دکھلا۔اس نشان کے ظہور کے وقت خدا ایک عزت دے گا جس کے ساتھ ایک انعام ہوگا۔(بدر مورخہ۱۶؍ مارچ ۱۹۰۶ء صفحہ۲)