تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 552 of 1089

تذکرہ — Page 552

بِکُلِّ مَنْ سَطَا۔۲۰۔ذَالِکَ بِـمَا عَصَوْا وَ کَانُوْا یَعْتَدُ۔وْنَ۔۲۱۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَ۔ہٗ۔۲۲۔یَـا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ۔۲۳۔کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔۲۴۔وَ ھُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِـھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔۲۵۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔۲۶۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ قَدَ مَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّـھِمْ۔۲۷۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔۲۸۔وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّـھَا الْمُجْرِمُوْنَ۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۷حاشیہ) ۱۱۔’’خدا نے میرا دل اپنی وحیِ خفی سے اِس طرف مائل کیا کہ ایسے قبرستان کے لئے ایسے شرائط لگادیئے جائیں کہ وہی لوگ اس میں داخل ہوسکیں جو اپنے صدق اور کامل راستبازی کی وجہ سے اُن شرائط کے پابند ہوں۔سو وہ تین شرطیں ہیں اور سب کو بجالانا ہوگا۔…پہلی شرط یہ ہے کہ ہر ایک شخص جو اِس قبرستان میں مدفون ہونا چاہتا ہے وہ اپنی حیثیت کے لحاظ سے ان مصارف کے لئے چندہ داخل کرے… دوسری شرط یہ ہے کہ تمام جماعت میں سے اِس قبرستان میں وہی مدفون ہوگا جو یہ وصیّت کرے جو اس کی موت کے بعد دسواں حصّہ اُس کے تمام ترکہ کا حسب ِ ہدایت اِس سلسلہ کے اشاعت ِ اسلام اور تبلیغِ احکامِ قرآن میں خرچ ہوگا اور ہر ایک صادق کامل الایمان کو اختیار ہوگا کہ اپنی وصیّت میں اِس سے بھی زیادہ لکھ دے لیکن اِس سے کم نہیں ہوگا … تیسری شرط یہ ہے کہ اِس قبرستان میں دفن ہونے والا متّقی ہو اور محرمات سے پرہیز کرتا اور کوئی شِرک اور بدعت کاکام نہ کرتا ہو۔سچا اور صاف مسلمان ہو۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۱۸تا۳۲۰) ۱۲۔’’میری نسبت اور میرے اہل و عیال کی نسبت خدا نے استثناء رکھا ہے باقی ہر ایک مَرد ہو یا عورت اُن کو شرائط کی پابندی لازم ہوگی اور شکایت کرنے والا منافق ہوگا۔‘‘ (ضمیمہ متعلقہ رسالہ الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۲۷) بقیہ ترجمہ۔پر حملہ کرے گا جو تیرے پر حملہ کرتا ہے۔۲۰۔کیونکہ وہ لوگ حد سے نکل گئے اور نافرمانی کی راہوں پر قدم رکھا ہے۔۲۱۔کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں۔۲۲۔اے پہاڑو اور اے پرندو! میرے اِس بندہ کے ساتھ وجد اور رِقّت سے میری یاد کرو۔۲۳۔خدا نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے ۲۴۔اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد غالب ہوجائیں گے۔۲۵۔خدا اُن کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جو نیکوکار ہیں۔۲۶۔وہ لوگ جو ایمان لائے اُ ن کے قدم اُن کے رَبّ کے نزدیک صداقت پر ہیں۔۲۷۔تم سب پر اُس خدا کا سلام ہے جو رحیم ہے ۲۸۔اور اے مجرمو! آج تم الگ ہوجاؤ۔(ترجمہ ماخوذ از حقیقۃ الوحی و تذکرۃ الشہادتین و الوصیّت۔شمس)