تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 545 of 1089

تذکرہ — Page 545

اے رُوح ! جس راہ سے آئی تھی اسی راہ سے واپس نکل آ۔فرمایا۔طبعی اُمور سے ثابت ہوتا ہے کہ ناک کی راہ سے رُوح داخل ہوتی ہے اسی راہ سے معلوم ہوا نکلتی ہے۔تو ریت سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ نتھنوں کے ذریعہ زندگی کی رُوح پھُونکی گئی۔وہ عالَم عجیب اسرار کا عالَم ہے۔جن کو اِس زندگی میں انسان پورے طور پر سمجھ بھی نہیں سکتا۔‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر ۴۳ مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۲؍ دسمبر۱۹۰۵ء ’’رؤیا۔دیکھا کہ ایک دیوار پر ایک مُرغی ہے۔وہ کچھ بولتی ہے۔سب فقرات یاد نہیں رہے مگر آخری فقرہ جو یاد رہا یہ تھا۔اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ۔۱؎ اس کے بعد بیداری ہوئی۔یہ خیال تھا کہ مُرغی نے یہ کیا الفاظ بولے ہیں۔پھر الہام ہوا۔اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْل اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ۔۲؎ فرمایا کہ مُرغی کا خطاب اور الہام کا خطاب ہر دوجماعت کی طرف تھے۔دونو فقروں میں ہماری جماعت مخاطب ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۸ مورخہ۸؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۳ مورخہ۱۰؍ دسمبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۴؍ دسمبر ۱۹۰۵ء ’’ ۱۔قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّ۔رُ وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُـخْزِیَـاتِ ذِکْـرًا۔۲۔قَرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّ۔رُ وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُـخْزِیَـاتِ شَیْئًا۔۳۔قَلَّ مِیْعَادُ رَبِّکَ وَ لَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ شَیْئًا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۳) (ترجمہ) ’’تیری اجل قریب آگئی ہے اور ہم تیرے متعلق ایسی باتوں کا نام و نشان نہیں چھوڑیں گے جن کا ذکر تیری رُسوائی کا موجب ہو۔۲۔۳؎ ۳۔تیری نسبت خدا کی میعادِ مقررہ تھوڑی رہ گئی ہے اور ہم ایسے تمام اعتراض دُور اور دفع کر دیں گے اور کچھ بھی ان میں سے باقی نہیں رکھیں گے جن کے بیان سے تیری رُسوائی مطلوب ہو۔‘‘ (الوصیّت۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۰۱، ۳۰۲) ۱ (ترجمہ) اگر تم مسلمان ہو۔(بدر مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۸) ۲ (ترجمہ) اللہ کی راہ میں خرچ کرو اگر تم مسلمان ہو۔(بدر مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۸) ۳ (بقیہ ترجمہ از ناشر) قریب ہے تیری اجل مقدر اور تیرے ذلیل کرنے والے امور میں سے کسی کا ذکر ہم باقی نہ رکھیں گے۔