تذکرہ — Page 507
۲۔’’بھونچال آیا اور بڑی شدت سے آیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۲ بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۔الحکم جلد ۹نمبر۱۴ مورخہ ۲۴؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۵؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’قُلْ مَا لَکَ حِیْلَۃٌ ‘‘ ؎۱ (بدر جلد ۱ نمبر ۴ مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۸؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’رؤیا میں دیکھا کہ ایک سفید کپڑا ہے اس پر کسی نے ایک انگشتری رکھ دی ہے۔اس کے بعد الہاماتِ ذیل ہوئے۔۱۔فتح نمایاں۔ہماری فتح۔۲۔صَدَّ قْتَ الرُّؤْیَـا۔۳۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔‘‘۲؎ ( الحکم۳؎ جلد ۹ نمبر ۱۵ مورخہ ۳۰ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۹؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’رات دو بجنے میں سات منٹ باقی تھے کہ مَیں نے دیکھا کہ یکایک زمین ہلنی شروع ہوئی۔پھر ایک زور کا دھکا لگا۔مَیں نےرؤیاہی میں گھر والوں کو کہا کہ اُٹھو زلزلہ آیا ہے اور یہ بھی کہا ۱ (ترجمہ از مرتّب) کہو اَب تمہارا حیلہ کارگر نہیں ہوسکتا۔۲ (ترجمہ) سچا کیا تو نے خواب کو۔میں اپنے فرشتوں کی فوجوں کے ساتھ اس وقت آؤں گا کہ کسی کو گمان بھی نہ ہوگا کہ ایسا حادثہ ہونے والا ہے۔(بدر مورخہ ۲۷؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۷ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱ میں یہ رؤیا و الہامات مع تفصیل یوں درج ہیں۔’’رؤیا میں دیکھا کہ ایک سفید سا کپڑا بچھا ہوا ہے اس پر کسی نے ایک انگشتری رکھ دی ہے۔اس کے بعد یہ وحی نازل ہوئی۔فتح نمایاں۔ہماری فتح۔یعنی واقعات آئندہ کے واسطے جو پیش گوئیاں کی ہوئی ہیں اور جن پر دشمن ہنسی کرتا ہے ان کو خدا تعالیٰ پورا کرکے ہماری صداقت دنیا پر ظاہر کردے گا اور لوگ نیک چلنی اختیار کریں گے اور خدا پر ایمان لائیں گے۔صَدَّ قْتَ الرُّؤْیَـا۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۔خدا تعالیٰ ہمیشہ انبیاء کی امداد فرشتوں کے ذریعہ سے کرتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں نیکی کی ترغیب پیدا کرتے ہیں اور حق کی طرف راہ د کھاتے ہیں۔اسی شب صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت کو اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ بَغْتَۃً۴؎ الہام ہوا ہے۔صبح اُٹھ کر ذکر کیا تو معلوم ہوا کہ بے شک یہ الہام ہوا ہے۔‘‘ ۴ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو خواب میں یہ الہام بتائے جانے میں غالباً ایک بڑی حکمت یہ تھی کہ اس الہام کا آپ کے زمانہ خلافت میں ایک خاص ظہور مقدر تھا جیسا کہ مارچ ۱۹۵۳ء میں ہوا۔