تذکرہ — Page 496
مارچ ۱۹۰۵ء ’’اُنْـزِلَ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی ثَلَاثٍ۔اَلْعَیْنِ وَ عَلَی الْاُخْرَیَیْنِ‘‘؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۱) ۲۳ ؍مارچ۱۹۰۵ء (الف) ’’آج مَیں نے ایک لمبی خواب میں دیکھا کہ ایک جگہ مَیں ہوں اور آتما مجسٹریٹ گورداسپور میرے پاس ہے۔ہم زمین پر بیٹھے ہیں اور بہت سی گفتگو مقدمہ کی بابت اس سے ہوئی ہے۔مَیں کچھ ایسا ذکر کرتا ہوں کہ تُو نے تو مجھے ستایا، خدا نے مجھے بَری کیا۔تو نے مجھے تکلیف دی۔پھر مَیں کہتا ہوں کہ دراصل اس مقدمہ میں انصاف کرنا تیرے پر مشکل تھا کہ دو فریق کے ایک ہی وقت میں تیرے پاس مقدمے پیش ہوئے اور تیری انصافی قوت طعنِ خَلق یا حکام کی بد ظنی کا خیال کرکے اسی خیال کی مغلوب ہوگئی۔تو نے خدا کا خوف نہیں کیا مگر افسوس ہے کہ ایک بدمعاش کے لئے تو نے مجھے بہت تکلیف دی اور مَیں نے تیری اولاد کی نسبت کچھ نہیں کہا صرف ایک خواب ان کی موت کی نسبت دیکھا تھا جو پورا ہوگیا۔شاید اُسی خواب کی وجہ سے تجھ میں مخالفت کا جوش پیدا ہوا۔اس نے آہ مار کر کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی اور دراصل اس دھوکہ دینے کا بانی چند ولعل ہے۔پھر بعد اس کے نہایت غمناک دِل سے گویا اس پر کوئی مصیبت ہے عذر خواہ ہوکر اس نے اپنا سر میرے بازو پر رکھ دیا گویا سجدہ کرتا ہے اور میری پناہ مانگتا ہے؎۲۔مَیں نے کہا اچھا۔مَیں نے خدا کے لئے تیرا گناہ بخشا۔یہ بات کہتے ہی آنکھ کھل گئی اور جب مَیں نے اس کے بیٹے کا ذکر کیا تو مَیں زمین پر الگ جا بیٹھا اور اس کو دکھایا کہ خواب میں جب تیرے بیٹے کی موت مجھ کو دکھائی گئی تو تم اس طرح زمین پر بیٹھے تھے۔‘‘ (ب) ’’الہام۔فَأَجَآءَہُ الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔قَالَ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا۔ھُزِّ اِلَیْکَ بِـجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسَاقِطْ عَلَیْکَ رُطَبًا جَنِیًّا۔‘‘؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۱، ۴۲) ۱ (ترجمہ از ناشر) تین اعضاء پر رحمت نازل کی گئی ایک آنکھ اور دو اور عضو۔۲ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یہ رؤیا حضرت امیر المؤ منین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں پوری ہوئی۔حضور فرماتے ہیں۔’’ بعد میں اسی مجسٹریٹ کو ایسی سزا ملی کہ وہ ایک دفعہ لدھیانہ کے سٹیشن پر مجھے ملنے کے لئے آیا اور اُس نے روتے ہوئے مجھ سے معافی مانگی اور کہا مَیں سخت دُکھ میں ہوں۔مَیں نے مرزا صاحب کے پاس معافی مانگنے کے لئے جانا تھا لیکن وہ تو اَب فوت ہوچکے ہیں اِس لئے مَیں آپ کے پاس آیا ہوں۔آپ میرے لئے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے اس عذاب سے نکال لے۔اگر یہ عذاب کچھ اَور عرصہ تک قائم رہا تو مَیں پاگل ہوجاؤں گا۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۹ ؍نومبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۵) ۳ (ترجمہ از مرتّب) پھر اس کو دردِ زِہ کھجور کے تنے کی طرف لے گئی۔تب اس نے کہا کاش مَیں اس سے پہلے مرجاتا اور بھولا بسرا ہوجاتا۔کھجور کے تنے کو ہلا تجھ پر تازہ بتازہ کھجوریں گِریں گی۔