تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 1089

تذکرہ — Page 495

۶ ؍مارچ۱۹۰۵ء ’’تھوڑی سی غنودگی ہوئی تو دیکھتا ہوں کہ یہ مکان؎۱جو اَب بن رہا ہے (جس کا اشتہار کشتی نوح میں دیا تھا) سامنے آگیا ہے۔اس پر ایک معمار بیٹھاہے۔اس نے کہا۔مبارک۔مَیں نے کہا خیر مبارک۔‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔ریویو آف ریلیجنز جلد ۴ نمبر۳ بابت ماہ مارچ ۱۹۰۵ء ٹائٹل صفحہ آخر) تخمیناً ۱۷؍ مارچ۱۹۰۵ء ’’مَیں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی مجھے کہتا۔سزائے موت۔یعنی چالیس دن کے بعد موت کا حکم ہے۔مَیں نے مولوی محمد علی صاحب سے پوچھا ہے اس حکم کا اپیل بھی ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا اپیل ہوسکتا ہے بلکہ اپیل در اپیل بھی۔پھر بعد اس کے مجھے ۱۸؍مارچ ۱۹۰۵ء کو بخار ہوا۔پیشاب نہایت شدید درد سے آتا تھا اور پیشاب کی راہ خون آنا شروع ہوا یہاں تک کہ بہت سا خون نکلا۔پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے ۱۸؍ مارچ ۱۹۰۵ء کے بعد شام کو الہام ہوا۔سنتا ہے۔دیکھتا ہے پھر الہام ہوا۔لَا تَیْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ ؎۲ پھر ایک الہام عربی میں تھا جس کے یہ معنی تھے کہ مکذّبین کو نشان دکھلائے جائیں گے۔پھر بعد اس کے مرض سے اس قدر تخفیف کہ مرض دُور ہوگئی صرف کسی قدر سوزش باقی ہے۔‘‘ (کاپی الہامات۳؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۰) ۲۰ ؍مارچ۱۹۰۵ء ’’آج ۲۰ ؍مارچ ۱۹۰۵ء کو مرض طاعون میں محمد افضل۴؎ بیمار ہوا اور اسی وقت کسی کی نسبت جو معلوم نہیں الہام ’’شکارِمرگ۔‘‘ وَ اللہُ اَعْلَمُ کس کی نسبت ہے۔(کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۰) بقیہ حاشیہ۔بھر کر روپے مجھے دیئے ہیں اس کے بعد ایک اور شخص آیا جو الٰہی بخش کی طرح ہے مگر انسان نہیں بلکہ فرشتہ معلوم ہوتا ہے اس نے دونوں ہاتھ روپیوں کے بھر کر میری جھولی میں ڈال دیئے ہیں تو وہ اس قدر ہوگئے ہیں کہ میں ان کو گن نہیں سکتا پھر میں نے اس کا نام پوچھا تو اس نے کہا میرا کوئی نام نہیں دوبارہ دریافت کرنے پر کہا کہ میرا نام ہے ٹیچی۔میں نے بہت سا مال دیکھ کر دل میں کہا کہ فلاں حاجت مند کو کچھ دے دوں گا اور ایک حاجت مند دکھایا گیا خستہ حال قابل رحم۔‘‘ ۱ (نوٹ از حضرت مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس سے وہ مکان مراد ہے جس میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ رہتے تھے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید مت ہو۔۳ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ میں ۱۸ و ۱۹؍ مارچ ۱۹۰۵ء کے تحت یہ الہامات یوں درج ہیں۔’’وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے۔لَا تَیْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰہِ۔ایک عربی الہام تھا الفاظ مجھے یاد نہیں رہے حاصل مطلب یہ ہے (مکذبوں کو نشان دکھایا جاوے گا۔)‘‘ ۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’محمد افضل مرحوم ۲۱ ؍مارچ ۱۹۰۵ء کو فوت ہوگیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۰)