تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 493 of 1089

تذکرہ — Page 493

۲۷ ؍فروری۱۹۰۵ء ’’میں نے بطور کشف دیکھا کہ درد ناک موتوں سے عجیب طرح پر شورِ قیامت؎۱ برپا ہے۔میرے منہ پر یہ الہامِ الٰہی تھا کہ مَوتا مَوتی لگ رہی ہے اور مجھے دکھایا گیا کہ ملک عذاب ِ الٰہی سے مِٹ جانے کو ہے۔نہ مستقل سکونت امن کی جگہ رہے گی نہ عارضی سکونت۔مقاموں پر اور عارضی سکونت گاہوں پر آفت آئے گی اور پھر مارچ کے مہینہ میں خدا تعالیٰ نے اپنی پاک وحی سے میرے پر ظاہر کیا کہ مکذبوں کو ایک نشان دکھایا جائے گا۔‘‘ (اشتہار الدعوت ۵ ؍اپریل ۱۹۰۵ء۔مجموعہ اشتہارات۲؎ جلد ۳ صفحہ ۳۴۸، ۳۴۹ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ شورِ قیامت برپا کرنے والا نشان وہ زلزلہ تھا جو ۴ ؍ اپریل ۱۹۰۵ء کی صبح کو مختلف مقامات پر آیا اور متعدد اخباروں میں اسے نمونہء قیامت قرار دیا گیا۔اخبار وکیل امرتسر نے لکھا۔’’یہ زلزلہ اِس درجہ ہولناک اور مہیب تھا کہ اِسے قیامت ِ صغریٰ کہنا کچھ مبالغہ نہ ہوگا بلکہ جس وقت وہ اپنی پوری شدت پر خدائے قہار کا جلال ظاہر کررہا تھا۔اُس وقت تو لوگوں کو عموماً یہی یقین آگیا تھا کہ بس قیامت آہی گئی ہے۔‘‘ یہ تصدیق ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کی جو حضور ؑ نے فرمایا کہ ’’ یہ ایک قیامت ہے۔جو لوگ قیامت کے منکر ہیں وہ اب دیکھ لیں کہ کس طرح ایک ہی سیکنڈ میں ساری دنیا فنا ہوسکتی ہے …اور فرمایا۔یہ قیامت ہمارے لئے نصرت الحق ہے۔ہم صبح یہی مضمون لکھ رہے تھے اور اِس الہام پر پہنچے تھے جو براہین احمدیہ میں درج تھا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی کو ظاہر کردے گا۔‘‘ ہم یہ الفاظ لکھ ہی رہے تھے اور اس کے پورا ہونے کے ثبوت آگے درج کرنے کو تھے کہ یک دفعہ زلزلہ ہوا۔یہ ایک زور آور حملہ ہے اور پیشگوئی میں حملوں کا لفظ جمع ہے جو عربی میں تین پر اطلاق پاتا ہے اِس واسطے خوف ہے کہ طاعون اور زلزلہ کے سوائے خدا جانے تیسرا حملہ کون سا ہے جو ہماری سچائی کے ثبوت کے واسطے خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمانا ہے۔‘‘ (بدر سلسلہ جدید۳؎ جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۶) ۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۵؍مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍مارچ ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ کے تحت بھی یہ الہام مع کشف درج ہے۔۳ (نوٹ از ناشر) البدر کے ایڈیٹر مکرم بابو محمد افضل صاحب ۲۱؍مارچ ۱۹۰۵ء کو وفات پاگئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بطور ایڈیٹر مکرم مفتی محمد صادقؓ کے تقرر کی توثیق فرمائی اور یہ خبر الحکم میں بڑے نمایاں طور پر شائع ہوئی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کے ایڈیٹر بننے کے بعد اپریل ۱۹۰۵ء کے پہلے دو پرچے ’’البدر‘‘ کے ٹائٹل پر ہی شائع ہوئے۔پھر ۲۰؍اپریل ۱۹۰۵ء کے پرچہ سے ’’البدر‘‘ کی بجائے ’’بدر‘‘ نمایاں طور پر اخبار کی پیشانی پر شائع ہوتا رہا۔بعض احباب خود سے ایک عرصہ تک اسے ’’بدر سلسلہ جدید‘‘ لکھتے رہے۔