تذکرہ — Page 27
محبت اُن پر غالب آگئی اور میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ مولوی عبداللہ نے میرے خواب میں میرے دعویٰ کی تصدیق کی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ قسم جھوٹی ہے تو اے قادر خدا مجھے ان لوگوں کی ہی زندگی میں جو مولوی عبداللہ صاحب کی اولاد یا اُن کے مرید یا شاگرد ہیں سخت عذاب سے مار ورنہ مجھے غالب کر اور ان کو شرمندہ یا ہدایت یافتہ۔مولوی عبداللہ صاحب کے اپنے منہ کے یہ لفظ تھے کہ آپ کو آسمانی نشانوں اور دوسرے دلائل کی تلوار دی گئی ہے اور جب میں دنیا پر تھا تو امید کرتا تھا کہ ایسا انسان خدا کی طرف سے دنیا میں بھیجا جائے گا۔یہ میری خواب ہے۔اِلْعَنْ مَنْ کَذَ۔بَ وَ اَیِّدْ مَنْ صَدَ۔قَ۔‘‘۱؎ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۶۱۴ تا ۶۱۶) ۱۸۷۸ء (تخمیناً) ’’ اور انہی؎۲دنوں میں شاید اس رات سے اوّل یا اس رات کے بعد میں نے کشفی حالت میں دیکھا کہ ایک شخص جو مجھے فرشتہ معلوم ہوتا ہے مگر خواب میں محسوس ہوا کہ اس کا نام شیر علی ہے۔اُس نے مجھے ایک جگہ لٹا کر میری آنکھیں نکالی ہیں اور صاف کی ہیں اور میل اور کدورت ان میں سے پھینک دی اور ہر ایک بیماری اور کوتاہ بینی کا مادہ نکال دیا ہے اور ایک مصفّا نور جو آنکھوں میں پہلے سے موجود تھا مگر بعض مواد کے نیچے دبا ہوا تھا اس کو ایک چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح بنادیا ہے اوریہ عمل کرکے پھر وہ شخص غائب ہوگیا اور میں اُس کشفی حالت سے بیداری کی طرف منتقل ہوگیا۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۳۵۲) ۱۸۷۸ء ’’ایک دفعہ ایک طالب العلم انگریزی خوان ملنے کو آیا اُس کے رُو برو ہی یہ الہام ہوا۔دِس اِزْ مائی اَینیمی ؎۳ یعنی یہ میرا دشمن ہے۔اگرچہ معلوم ہوگیا تھا کہ یہ الہام اُسی کی نسبت ہے مگر اُسی سے یہ معنی بھی دریافت کئے گئے اور آخر وہ ایسا ۱ (ترجمہ از ناشر) اے اللہ جھوٹے پر لعنت کر اور سچے کی تائید فرما۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمد ؓ) یعنی جب رؤیا مذکورہ بالا دیکھا تھا۔۳ This is my enemy