تذکرہ — Page 481
مئی۱۹۰۴ء ’’ سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْ بِـھِمُ الـرُّعْبَ۔‘‘؎۱ (البدر جلد ۳ نمبر۲۹مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۸ نمبر۱۷ مورخہ۲۴؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲) ۱۹۰۴ء ’’مجھے بارہا خدا تعالیٰ مخاطب کرکے فرما چکا ہے کہ جب تُو دعا کرے تو مَیں تیری سنوں گا۔‘‘ ( الحکم جلد ۸ نمبر۱۷ مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۴) ۳۱؍ مئی۱۹۰۴ء ’’اِنَّـا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر۱۸ مورخہ۳۱ ؍مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۹۔البدر جلد ۳ نمبر۲۰، ۲۱مورخہ ۲۴ ؍مئی و یکم جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱۵) (ترجمہ) ہم ایک کھلی کھلی فتح تجھ کو عطا کریں گے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۷) یکم جون۱۹۰۴ء ’’ ۱۔اِنِّیْ اَنَـا الرَّحْـمٰنُ سَاَجْعَلُ لَکَ سُھُـوْلَۃً فِیْ اَمْرِکَ۔۲۔اِنِّیْ اَنَـا التَّوَّابُ مَنْجَآءَکَ جَآءَنِیْ۔۳۔وَلَقَدْ نَصَـرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْ رٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ۔۴۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ۔۵۔عَفَتِ الدِّ۔یَـارُ مَـحَلُّھَا وَ مُقَا مُھَا۔‘‘؎۲ ( الحکم جلد ۸ نمبر۱۸ مورخہ۳۱؍ مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۹۔البدر جلد ۳ نمبر۲۰، ۲۱مورخہ ۲۴ ؍مئی و یکم جون ۱۹۰۴ء صفحہ۱۵) یکم جون ۱۹۰۴ء (الف) ’’ ساتھ اس؎۳کے یہ بھی الہام تھا کہ زلزلہ کا دھکا۔‘‘؎۴ (اشتہار ۱۸ ؍اپریل ۱۹۰۵ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۵۸ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ہم ان کے دلوں پر رُعب طاری کردیں گے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ الہام گورداسپور سے واپس آتے وقت راستہ میں ہوا تھا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقدمہ کرم دین کے تعلق میں تشریف لے گئے تھے۔(دیکھیے الحکم مورخہ ۲۴ ؍مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مَیں ہی رحمٰن ہوں۔مَیں تیرے لئے تیرے کام میں سہولت پیدا کروں گا۔۲۔مَیں ہی ہوں توبہ قبول کرنے والا۔جو تیرے پاس آیا وہ میرے پاس آیا۔۳۔اللہ تعالیٰ نے تم کو بدر میں مدد دی اس حالت میں کہ تم بہت کمزور تھے۔۴۔تمہارے لئے سلامتی ہے تم خوش رہو۔۵۔عارضی رہائش کے مکانات بھی مِٹ جائیں گے اور مستقل رہائش کے بھی۔۳ یعنی الہام عَفَتِ الدِّیَارُ مَـحَلُّھَا وَ مُقَا مُھَا۔(عبد اللطیف بہاولپوری) ۴ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) خاکسار مرتّب عرض کرتا ہے کہ اِس الہامِ الٰہی کے مطابق ۴ ؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو شمالی ہندوستان میں ایک نہایت خطرناک زلزلہ آیا جس کا مرکز دھرم سالہ ضلع کانگڑ ہ تھا۔اس زلزلہ سے ہزاروں مکانات اور جانیں تلف ہوئیں۔