تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 478 of 1089

تذکرہ — Page 478

۴۔زَادَ اللّٰہُ عُـمُرَکَ۔۵۔اِعْـمَلُوْا مَا شِئْتُمْ۔اِنِّیْ اَمَرْتُ لَکُمْ۔اَیْ اَمَرْتُ الْمَلَآ۔ئِکَۃَ لَکُمْ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۸) (ب) ’’ امن است درمکانِ محبّت سرائے ما اور ایک خواب میں معلوم ہوا کہ طاعون تو گئی مگر بخار رہ گیا۔‘‘ (الحکم۲؎ پرچہغیر معمولی جلد ۸ نمبر ۱۳ مورخہ ۲۸؍ اپریل ۱۹۰۴ء) (ترجمہ) ہماری محبت کا گھر امن کا گھر ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۸) ۲۹؍ اپریل۱۹۰۴ء ’’۱۔کوریہ خطرناک حالت میں ہے۔مشرقی طاقت۔؎۳ بقیہ ترجمہ۔۴۔اللہ تعالیٰ نے تیری عمر بڑھا دی۔۔کرو جو تم چاہتے ہو۔مَیں نے تمہارے لئے فرشتوں کو حکم دے دیا ہے۔۱ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۴؍اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ ۸ اور الحکم پرچہ غیر معمولی مورخہ ۲۸؍اپریل ۱۹۰۴ء میں یہ الہامات ترتیب کے فرق سے دیئے گئے ہیں۔نیز الہام اُذْکُرْ نِعْمَتِیْ۔غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْـمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ بھی درج ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۲۴؍ اپریل و یکم مئی ۱۹۰۴ء صفحہ۸ میں بھی یہ الہام درج ہے۔۳ ایڈیٹر صاحب اخبار الحکم لکھتے ہیں۔’’ جب جاپان اور روس کی لڑائی شروع ہوئی ہے اور ابھی کوئی میدان جاپان نے نہیں مارا تھا حضرت اقدسؑ کو ایک الہام ہوا تھا۔’’ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت۔‘‘ اِس الہام کو ہماری جماعت کا بہت بڑا حصّہ جانتا ہے خصوصاً وہ لوگ جو دارالامان میں رہتے ہیں۔میری غفلت سے یہ اخبار میں پہلے شائع نہیں ہوسکا۔اِس وقت میری غرض اِس الہام کے اندراج سے یہ ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ سلسلہ عالیہ کے ساتھ اس مشرقی طاقت کو کوئی مناسبت ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (الحکم مورخہ۱۰؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰) (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) روس اور جاپان کی جنگ سے پہلے کوریا پر روس کا اقتدار تھا۔یہ جنگ ۲۷،۲۸؍مئی ۱۹۰۵ء کو ختم ہوئی اور معاہدہ صلح مرتّب کیا گیا۔اس معاہدہ صلح میں سب سے پہلی شرط یہ تھی کہ کوریا میں جاپان کا پورا اقتدار رہے گا۔گویا مشرقی طاقت (جاپان ) کے غلبہ اور کوریا کے مفتوح ہونے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی واضح رنگ میں پوری ہوگئی۔نیز یہ بھی واضح رہے کہ پیشگوئیوں کے ظہو رتعدد و قوع میں مثانی کا حکم رکھتے ہیں اب جو اُفق ِ سیاست پر مشرقی طاقت کا نیا ستارہ طلوع ہورہا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ واقعاتِ آئندہ اس الہامی پیشگوئی کی ایک نئی تفسیر پیش کریں گے۔اِنْ شَآءَ اللہُ تَعَالٰی۔