تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 1089

تذکرہ — Page 442

’’۳۱ ؍مئی ۱۹۰۳ء مطابق ۳؍ ربیع الاوّل ۱۳۲۱؁ھ روز یکشنبہ‘‘ اَللّٰھُمَّ ارْحَـمْ‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۸) ۳؍ جون۱۹۰۳ء ’’خواب میں دیکھا کہ کسی شخص نے مجھ کوکچھ روپیہ دیا کہ یہ سرکار سے تجھ کو ملا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ ڈگری کا روپیہ تھا۔مَیں نے اس کو ایک چادر کے پلّے میں باندھ کر رکھ لیا اور مَیں نے دینے والے کو پوچھا کہ کیا اس کی رسید لو گے۔اس نے کہا کہ رسید کی حاجت نہیں مَیں اعتباری آدمی ہوں۔پھر دیکھا کہ وہ روپیہ گم ہوگیا۔کوئی لے گیا۔مَیں نے اُس شخص سے پوچھا کہ وہ کتنا روپیہ تھا۔اُس نے کہا  ۱؎تھے اور مَیں نے ایک شخص کو جو اپنے ملازموں میں سے معلوم ہوتا ہے پکڑ لیا کہ تو نے لیا ہے اور وہ انکار کرتا ہے۔اب تک پتہ نہیں کہ کس نے لیا۔ہم کچہری کے مقام پر ہیں مگر وہاں حاکم کوئی نہیں۔بعد اس کے الہام ہوا۔اِنِّیْ مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ۔اِنِّیْ مَعَ کَـثْـرَۃِ رِزْقِکَ۔‘‘ ؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۹) ۴؍جون ۱۹۰۳ء ’’۲ یا ۳ بجے رات کو مَیں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک جگہ پر مع چند ایک دوستوں کے گیا ہوں۔وہ دوست وہی ہیں جو رات دن پاس رہتے ہیں۔ایک اُن میں مخالف بھی معلوم ہوتا ہے۔اس کا سیاہ رنگ، لمبا قد اور کپڑے چرکین ہیں۔آگے جاتے ہوئے تین قبریں نظر آئی ہیں۔ایک قبر کو دیکھ کر مَیں نے خیال کیا کہ والد صاحب کی قبر ہے اور دوسری قبر یں سامنے نظر آئیں۔مَیں ان کی طرف چلا۔اس قبر سے کچھ فاصلہ پر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ صاحب ِ قبر (جسے مَیں نے والد کی قبر سمجھا تھا) زندہ ہو کر قبر پر بیٹھا ہوا ہے۔غور سے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اَور شکل ہے والد صاحب کی شکل نہیں مگر خوب گورا رنگ، پتلا بدن، فربہ چہرہ ہے۔مَیں نے سمجھا کہ اس قبر میں یہی تھا۔اتنے میں اُس نے آگے ہاتھ بڑھایا کہ مصافحہ کرے۔مَیں نے مصافحہ کیا اور نام پوچھا تو اُس نے کہا نظام الدین۔پھر ہم وہاں سے چلے آئے۔آتے ہوئے مَیں نے اُسے پیغام دیا کہ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور والد صاحب کو السلام علیکم کہہ چھوڑنا۔راستہ میں مَیں نے اس مخالف سے پوچھا کہ آج جو ہم نے یہ عظیم الشان معجزہ دیکھا کیا اَب بھی نہ مانو گے؟ تو اُس نے جواب دیا کہ اَب تو حد ہوگئی، اَب بھی نہ مانوں تو کب مانوں۔مُردہ زندہ ہوگیا ہے۔اس کے بعد الہام ہوا۔سَلِیْمٌ حَامِـدٌ مُسْتَبْشِـرًا کچھ حصّہ الہام کا یاد نہیں رہا۔۱ نقل مطابق اصل۔(ناشر) ۲ (ترجمہ از مرتّب) یقینا مَیں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔مَیں تیرے کثرتِ رزق کے ساتھ ہوں۔