تذکرہ — Page 436
۱۹۰۳ء رؤیا۔’’مَیں اس؎۱ مکان کی طرف سے مسجد کی طرف چلا جارہا ہوں۔مَیں نے ایک شخص کو آتے ہوئے دیکھا جو کہ ایک سکھ کی طرح معلوم ہوتا تھا جس طرح سے اکالئے اور کوکہ سکھ ہوتے ہیں۔اس کے ہاتھ میں ایک بہت تیز، خوفناک، بڑا اور چوڑا چُھرا تھا اور اُس چُھرے کا دستہ چھوٹا ساتھا۔وہ چُھرا بڑا ہی تیز معلوم ہوتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ اس سے لوگوں کو قتل کرتا پھرتا تھا۔جہاں اُس نے چُھرا رکھا اور گردن اُڑ گئی۔کچھ اس طرح معلوم ہوتا تھا جس طرح مَیں نے لیکھرام کے وقت میں ایک آدمی خواب میں دیکھا تھا۔اس کی صورت بڑی ڈراؤنی تھی اور بڑا ہی دہشت ناک آدمی معلوم ہوتا تھا۔مجھے بھی اُس سے خوف معلوم ہوا اور مَیں نے اس کی طرف جانا نہ چاہا لیکن میرے پاؤں بہت بوجھل ہوگئے اور مَیں بڑا ہی زور لگا کر اُدھر سے نکلا لیکن اُس نے میری مزاحمت نہ کی اور اگرچہ مجھ کو اُس سے خوف معلوم ہوا لیکن اُس نے مجھ کو کوئی تکلیف نہ دی اور پھر وہ خبر نہیں کہ کس طرف کو نکل گیا۔‘‘ (البدر جلد ۲ نمبر۱۱ مورخہ ۳؍ اپریل ۱۹۰۳ء صفحہ۸۵) ۱۹۰۳ء ’’رؤیا۔ایک حنائی رنگ کا کاغذ لکھا ہوا دو ورقہ کاغذ کچھ تھوڑے فاصلہ پر گر پڑا ہے۔مَیں نے ایک ہندو کو کہا کہ اس کو پکڑو۔جب وہ پکڑنے لگا تو وہ کاغذ کچھ تھوڑی دُور آگے جا پڑا۔پھر وہ ہندو اُٹھانے لگا تو وہ وہاں سے اُڑ کر اَور آگے جا پڑا۔لیکن وہ دو ورقہ اس طرح کچھ ترتیب سے کُھل کر اُڑتا رہا ہے کہ اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ کوئی جاندار چیز ہے۔جب وہ کچھ فاصلہ تک چلا گیا تو وہ ہندو وہاں جاکر پھر اس کو پکڑنے لگا۔تب وہ دو ورقہ اُ ڑ کر میرے پاس آگیا تو اُس وقت میری زبان سے یہ کلمہ نکلا۔جس کا تھا اُس کے پاس آگیا پھر مَیں نے اس کو مخاطب ہو کر کہا کہ ہم وہ قوم ہیں جو رُوح القدس کے بُلائے بولتے ہیں۔ہم وہ قوم ہیں جن کے حق میں خدا نے فرمایا ہے۔لَنَفَخْنَا فِیْـھِمْ مِّنْ صِدْ۔قِنَا۔۲؎ اسلامی خدمات کسی دوسرے سے اللہ تعالیٰ لینا ہی نہیں چاہتا۔شاید دوسرا اس میں کچھ غلطی بھی کرے۔وَ اللہُ اَعْلَمُ۔جو شخص اِسلام کے عقائد کا منافی ہے وہ اِسلام کی تائید کیا کرے گا۔سناتن دھرم میں اِس طرح کے بھی آدمی ہوتے ہیں کہ وہ کسی فرقہ کے مکذّب نہیں ہوتے اور معمولی چیزوں کے آگے بھی ہاتھ جوڑتے پھرتے ہیں۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اس سے مرا دحضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اپنا رہائشی مکان ہے جو کہ مسجد مبارک سے متصل ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ہم نے یقیناً ان لوگوں میں اپنی بعض سچائیوں کی رُوح ڈال دی ہے۔