تذکرہ — Page 409
۶ ؍نومبر ۱۹۰۲ء ’’ ۶؍نومبر ۱۹۰۲ء کی شام کو میرے دل میں ڈالا گیا کہ ایک قصیدہ مقام مُدؔ کے مباحثہ کے متعلق بناؤں۔‘‘ (اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۲۰۳) ۱۹۰۲ء (الف) ’’ فَقَدْ سَـرَّنِیْ فِیْ ھٰذِہِ الصُّوْرِ صُوْرَۃٌ لِیَدْ فَعَ رَبِّیْ کُلَّمَا کَانَ یَـحْشُـرٗ ؎۱ ترجمہ۔پس اِن صورتوں میں مجھے ایک طریق اچھا معلوم ہوا تا میرا خدا اس طوفان کو دُور کردے جو اُس؎۲نے اُٹھایا ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۱۵۶) (ب) ’’ ایک قصیدہ مَیں نے عربی میں تالیف کیا تھا جس کا نام اعجاز احمدی رکھا تھا اور الہامی طور پر بتلایا گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکے گا اور اگر طاقت بھی رکھتا ہوگا تو خدا کوئی روک ڈال دے گا۔پس قاضی ظفرالدین جو نہایت درجہ اپنی طینت میں خمیر انکار اور تعصّب اور خودبینی رکھتا تھا اس نے اس قصیدہ کا جواب لکھنا شروع کیا تا خدا کے فرمودہ کی تکذیب کرے۔پس ابھی وہ لکھ ہی رہا تھا کہ ملک الموت نے اس کا کام تمام کردیا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۶۰۴ حاشیہ) (ج) ’’ میرے مکان کے ملحق ۲دو مکان تھے جو میرے قبضہ میں نہیں تھے اور بباعث تنگی مکان توسیع مکان؎۳ کی ضرورت تھی۔ایک دفعہ مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا جو اُس زمین پر ایک بڑا چبوترہ ہے اور مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس جگہ ایک لمبا دالان بن جائے۔اور مجھے دکھایا گیا کہ اس زمین کے مشرقی حصّہ نے ہماری عمارت کے بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصّہ کی زمین اُفتادہ نے آمین کہی ہے۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۳۹۳) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔ھٰذَا الشِّعْرُ مِنْ وَّحْیِ اللّٰہِ تَعَالٰی جَلَّ شَاْنُہٗ۔(اعجاز احمدی۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ۱۵۶ حاشیہ) (ترجمہ از ناشر) یہ شعر اللہ جَلَّ شَاْنُہٗ کی وحی سے ہے۔۲ مولوی ثناء اللہ صاحب نے۔(مرزا بشیر احمد) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی مکان ہے جس کا اشتہار کشتی نوح کے آخر میں حضرت اقدس ؑ نے دیا تھا اور جس میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ رہتے تھے اور اِس لحاظ سے یہ کشف ۱۹۰۲ء یا اس سے قدرے قبل کا بنتا ہے مگر چونکہ صحیح تاریخ کا پتہ نہیں لگ سکا اِس لئے اِسے کشتی نوح کے سنِ تصنیف میں درج کردیا ہے۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔