تذکرہ — Page 408
وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُ۔ھُمْ لِلسِّلْسِلَۃِ السَّمَاوِیَّۃِ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ۔جَفَّ الْقَلَمُ بِـمَا ھُوَ کَآ۔ئِنٌ۔قُلْ اِنَّـمَا اَنَـا بَشَـرٌ مِّثْلُکُمْ یُـوْحٰی اِلَیَّ اَنَّـمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہُ وَّاحِدٌ۔وَ الْـخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُ ھَاالنَّاسُ وَ الْـحِــجَارَۃُ اُعِدَّ تْ لِلْکَا فِرِیْنَ۔؎۱ معلوم ہوتا ہے کہ آدمی دو قسم ہیں۔ایک وہ کہ جانتے تو نہیں مگر اُن میں ابھی انسانیت ہے۔دوسرے وہ جن کے آنکھ، کان، فہم وغیرہ سب جاتے رہتے ہیں اور حـجارہ میں داخل ہیں۔وہ بھی جہنّم میں داخل ہوں گے جو کہ سمجھے ہوئے تو ہیں مگر بعض تعلّقاتِ دُنیاوی کی وجہ سے وہ قبول نہیں کرتے۔معلوم ہوتا ہے اس میں کوئی تجویز ہے اور اس کو ابھی مخفی رکھا ہے۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ترقی ہونے والی ہے اور اللہ کریم کچھ چشم نمائی کرنے والے ہیں۔اور یہ بھی فرمایا کہ جو کچھ ہمارے ارادہ میں ہے وہ ہوچکا۔اب ٹل نہیں سکتا۔‘‘ (البدر جلد ۱ نمبر۲ مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۰،۱۱ ) ۱۹۰۲ء ’’طاعون کا ہو پڑا۔فرمایا۔ایک بار مجھے یہ الہام ہوا تھا کہ خدا قادیان میں نازل ہوگا اپنے وعدہ کے موافق۔اور پھر یہ بھی تھا۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَـمِلُوا الصَّالِـحَاتِ۔‘‘ ؎۲ (البدر جلد ۱ نمبر۲ مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱۔الحکم جلد۶نمبر۴۰ مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱) ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء (الف) ’’ نتیجہ خلافِ مُراد ہوا یانِکلا آخر کا لفظ ٹھیک یاد نہیں اور یہ بھی پختہ پتہ نہیں کہ یہ الہام کس امر کے متعلق ہے۔‘‘ (البدر جلد ۱ نمبر۲ مورخہ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۶ ) (ب) ’’ نتیجہ خلاف ِاُمید ہے۔‘‘ (الحکم جلد۶نمبر۴۰ مورخہ ۱۰؍نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور یا تو ہم تجھے وہ بعض وعدے دکھا دیں گے جو ہم نے سلسلہ سماویہ کے لئے کئے ہیں اور یا تجھے وفات دے دیں گے۔جو کچھ ہمارے ارادہ میں ہے وہ ہوکر رہے گا۔تُو کہہ دے کہ مَیں تمہاری طرح ایک بشر ہوں جس پر وحی کی گئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی ہے۔اور تمام خیر قرآن میں ہے۔پس اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جو کفار کے لئے تیار کی گئی ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) سوائے مومنوں اور نیک عمل کرنے والوں کے۔