تذکرہ — Page 392
تھے۔غرض مَیں نے دیکھا کہ وہ ایک عظیم الشان تخت پر بیٹھے ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ خدا تعالیٰ ہے۔اس میں سِرّ یہ ہوتا ہے کہ باپ چونکہ شفقت اور رحمت میں بہت بڑا ہوتا ہے اور قُرب اور تعلّق شدید رکھتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کا باپ کی شکل میں نظر آنا اس کی عنایت ‘ تعلّق اور شدّتِ محبّت کو ظاہر کرتا ہے۔اس لئے قرآن شریف میں بھی آیا ہے کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ۱؎ اور میرے الہامات میں یہ بھی ہے اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ اَوْلَادِیْ۔۲؎ یہ قرآن شریف کی اسی آیت کے مفہوم اور مصداق پر ہے۔‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر۱۷ مورخہ۱۰؍مئی۱۹۰۲ء صفحہ ۷) ۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء ’’۱۰؍ اپریل کو الہام ہوا۔افسوس صَد افسوس ‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر۱۷ مورخہ۱۰؍مئی۱۹۰۲ء صفحہ ۷) ۱۱؍ اپریل ۱۹۰۲ء ’’۱۱؍ اپریل کو الہام ہوا۔رہگرائے عالَمِ جاودانی شُد۔‘‘ ؎۳ (الحکم جلد۶ نمبر۱۷ مورخہ۱۰؍مئی۱۹۰۲ء صفحہ ۷) ۱۹۰۲ء ’’ حضرت اقدسؑ ایک روز فرماتے تھے۔ہم نے کشف میں دیکھا کہ قادیان ایک بڑا عظیم الشان شہر بن گیا اور انتہائی نظر سے بھی پَرے تک بازار نکل گئے اُونچی اُونچی دو منزلی چومنزلی یا اس سے بھی زیادہ اُونچے اُونچے چبوتروں والی دکانیں عمدہ عمارت کی بنی ہوئی ہیں اور موٹے موٹے سیٹھ، بڑے بڑے پیٹ والے جن سے بازار کو رونق ہوتی ہے، بیٹھے ہیں اور اُن کے آگے جواہرات اور لعل اور موتیوں اور ہیروں، روپوں اور اشرفیوں کے ڈھیر لگ رہے ہیں اور قسماقسم کی دوکانیں خوبصورت اسباب سے جگمگا رہی ہیں۔یکّے، بگھیاں ، ٹمٹم، فٹن، پالکیاں، گھوڑے، شِکرمیں، پیدل اِس قدر بازار میں آتے جاتے ہیں کہ مونڈھے سے مونڈھا بھِڑ کر چلتا ہے اور راستہ بمشکل ملتا ہے۔‘‘ (از مضمون پِیر سراج الحق صاحبؓ مندرجہ الحکم جلد۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰؍اپریل۱۹۰۲ء صفحہ۱۲،۱۳) ۱ (ترجمہ از ناشر) جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو۔(البقرۃ: ۲۰۱ ) ۲ (ترجمہ) تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ اولاد۔(دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۲۸) ۳ (ترجمہ از مرتّب) اس نے عالَمِ بقا کی راہ اختیار کرلی۔