تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 390 of 1089

تذکرہ — Page 390

زمانہ بخشا گیا ایسا ہی اس جگہ بھی ہوگا۔اور پھر اِس الہام کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ثُمَّ یُغَاثُ النَّاسُ وَ یَعْـصِـرُوْنَ۔۱؎ یعنی پھر لوگوں کی دعائیں سنی جائیں گی اور وقت پر بارشیں ہوں گی۔اور باغ اور کھیت بہت پھل دیں گے اور خوشی کا زمانہ آجائے گا اور غیر معمولی آفتیں دُور ہوجائیں گی۔‘‘ (تجلّیاتِ الٰہیہ۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ ۳۹۹) ۶ ؍اپریل ۱۹۰۲ء ۶؍اپریل ۱۹۰۲ء کی صبح کو فرمایا۔’’رات مَیں نے کشف میں دیکھا کہ کوئی بیمار کتّا ہے۔مَیں اُسے دوا دینے لگا ہوں تو میری زبان پر جاری ہوا۔اِس کتے کا آخری دَم ہے۔‘‘ (الحکم جلد۱۴ نمبر۱۹ مورخہ ۲۸؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۵) ۱۰؍اپریل ۱۹۰۲ء ’’ آج پہلے وقت ہی یہ الہام ہوا۔دِلَم مے بِلرزَد چو یاد آورم مناجاتِ شوریدہ اندر حَرم ؎۲ شوریدہ سے مُراد دعا کرنے والا ہے اور حَرم سے مراد جس پر خدا نے تباہی کو حرام کردیا ہو۔اور دلم مے بلرزد خدا کی طرف (سے) ہے یعنی یہ دعائیں قوی اثر ہیں۔مَیں انہیںجلدی قبول کرتا ہوں۔یہ خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت کا نشان ہے۔دلم مے بلرزد ، بظاہر ایک غیر محل سا محاورہ ہوسکتا ہے مگر یہ اسی کے مشابہ ہے جو بخار ی میں ہے کہ مومن کی جان نکالنے میں مجھے تردّد ہوتا ہے۔۱ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۸ میں یہ الہام یوں درج ہے۔یُغَاثُ النَّاسُ وَ یَعْـصِـرُوْنَ۔‘‘ ۲ (ترجمہ از مرتّب) جب مجھے پریشان حال شخص کا حرم میں علیٰحدگی کی حالت میں دُعا کرنا یاد آتا ہے تو میرا دل کانپ جاتا ہے۔(نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) اِس الہام میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس مناجات کی طرف اشارہ ہے جو حضور کی طرف سے بوساطت پِیر صاحب منشی احمد جان صاحب ۱۳۰۳ھ میں بیت اللہ کے اندر بآوازِ بلند دعا کی گئی اور جماعت آمین کہتی گئی۔چنانچہ پیر صاحب جب حج کے لئے تشریف لے جانے لگے تو