تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 386 of 1089

تذکرہ — Page 386

۱۶؍ نومبر ۱۹۰۱ء ’’فرمایا۔آج ایک مُنذِر الہام ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک خوفناک رؤیا بھی ہے۔وہ الہام یہ ہے۔مَــــــــــــحْــــــــــــمُــــــــــــــوْمٌ ؎۱ پھر نَـظَـرْتُ اِلَی الْــمَـــحْــمُــوْمِ ؎۲ پھر دیکھا کہ بکرے کی ران کا ٹکڑا چھت سے لٹکایا ہوا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۴۲ مورخہ۱۷؍نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ۴) ۱۷؍ نومبر ۱۹۰۱ء ’’رات میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے یعنی ۱۷؍نومبر کی رات کو جس کی صبح کو ۱۸؍ نومبر تھی اور وہ رؤیا یہ ہے۔مَیں نے دیکھا کہ ایک سپاہی وارنٹ لے کر آیا ہے اور اس نے میرے ہاتھ پر ایک رسّی سی لپیٹی ہے تو مَیں اُسے کہہ رہا ہوں کہ یہ کیا ہے مجھے تو اس سے ایک لذّت اور سُرور آرہا ہے۔وہ لذت ایسی ہے کہ مَیں اسے بیان نہیں کرسکتا۔پھر اسی اثنا میں میرے ہاتھ میں معاً ایک پروانہ دیا گیا ہے۔کسی نے کہا کہ یہ اعلیٰ عدالت سے آیا ہے۔وہ پروانہ بہت ہی خوشخط لکھا ہوا تھا اور میرے بھائی مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کا لکھا ہوا تھا۔مَیں نے اس پروانہ کو جب پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا۔عدالت ِ عالیہ نے اسے بَری کیا ہے۔فرمایا۔اس سے پہلے کئی دن ہوئے یہ الہام ہوا تھا۔رَشَنَ الْـخَبَرُ ؎۳ رَشَن ناخواندہ مہمان کو کہتے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۴۴ مورخہ۳۰؍نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ۲) ۱۹۰۱ء ’’مبارکہ؎۴کے متعلق ایک الہام سنایا۔نواب مبارکہ بیگم۔‘‘ (الحکم جلد ۵ نمبر۴۴ مورخہ۳۰؍نومبر ۱۹۰۱ء صفحہ۳) ۱۹۰۱ء ’’ہوا اِک خواب میں مجھ پر یہ اظہر کہ اِس؎۵کو بھی ملے گا بخت برتر لقب عزت کا پاوے وہ مقرّر یہی روزِ اَزل سے ہے مقدّر‘‘ ۱ (ترجمہ از مرتّب) یعنی ایک تپ والا۔۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے اس تپ والے کی طرف دیکھا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) یعنی اچانک خبر آگئی۔۴ حضرت اقدس ؑ کی صاحبزادی (مرزا بشیر احمد) ۵ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہؓ۔(مرزا بشیر احمد)