تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 1089

تذکرہ — Page 14

کہ یہ چشمہ گدلا ہے ہ<mark>ما</mark>رے چشمے سے پانی پیو۔تیس برس کا عرصہ ہوا ہے جبکہ مَیں نے یہ خواب یعنی باوا نانک صاحب کو مسل<mark>ما</mark>ن دیکھا۔اُسی وقت اکثر ہندوؤں کو سنایا گیا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس کی کوئی تصدیق پیدا ہوجائے گی چنانچہ ایک مدّت کے بعدوہ پیشگوئی بک<mark>ما</mark>ل صفائی پوری ہوگئی اور تین سو برس کے بعد وہ چولہ ہمیں دستیاب ہوگیا کہ جو ایک صریح دلیل باوا صاحب کے مسل<mark>ما</mark>ن ہونے پر ہے۔یہ چولہ جو ایک قسم کا پیراہن ہے بمقام ڈیرہ نانک؎۱ باوا نانک صاحب کی اولاد کے پاس بڑی عزت اور حرمت سے بطور تبرک محفوظ ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸صفحہ ۵۸۱،۵۸۲) (ب) ’’یہ بھی یاد رہے کہ میں نے دو مرتبہ باوا نانک صاحب کو کشفی حالت میں دیکھا ہے اور اُن کو اِس بات کا اقراری پایا ہے کہ انہوں نے اُسی نُور سے روشنی حاصل کی ہے۔فضولیاں اور ج<mark>ھو</mark>ٹ بولنا مُردار خوروں کا کام ہے۔مَیں وہی کہتا ہوں کہ جو میں نے دیکھا ہے۔اسی و جہ سے میں باوا نانک صاحب کو عزت کی نظرسے دیکھتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اُس چشمے سے پانی پیتے تھے جس سے ہم پیتے ہیں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ مَیں اُس معرفت سے بات کررہا ہوں کہ جو مجھے عطا کی گئی ہے۔‘‘ (از اشتہار مورخہ ۱۸؍اپریل ۱۸۹۷ء۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۲۷۶ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۷۲ء (قریباً) ’’<mark>ما</mark>رٹن کلارک والے مقدّمہ سے قریباً پچیس سال پہلے میں ایک دفعہ خواب میں دیکھ چکا تھا کہ مَیں ایک عدالت میں کسی حاکم کے سامنے حاضر ہوں اور ن<mark>ما</mark>ز کا وقت آگیا ہے تو مَیں نے اُس حاکم سے ن<mark>ما</mark>ز کے لئے اجازت طلب کی تو اُس نے کشادہ پیشانی سے مجھے اجازت دی۔چنانچہ اِس کے مطابق اس مقدمہ میں عین دورانِ مقدمہ میں جبکہ مَیں نے کپتان ڈگلس سے ن<mark>ما</mark>ز کے لئے اجازت چاہی تو اس نے بڑی خوشی سے مجھے اجازت دے دی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۸۸) ۱۸۷۲ء(قریباً) ’’ مَیں نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ بٹالہ کے مکانات میں ایک حویلی ہے اُس میں ایک سیاہ کمبل پر میں بیٹھا ہوں اور لباس بھی کمبل ہی کی طرح پہنا ہوا ہے گویا کہ دنیا سے الگ ہوا ہوں۔اتنے میں ایک لمبے قد کا شخص آیا اور مجھے پوچھتا ہے کہ میرزا غلام احمد غلام مرتضیٰ کا بیٹا کہاں ہے؟ مَیں نےکہا بقیہ حاشیہ۔آنے والا ہے کہ اہلِ ہنود اور سکّ<mark>ھو</mark>ں پر اِسلام کی حقّانیت صاف طور سے کھل جائے گی اورباوا صاحب کا چشمہ جس کو حال کے سکّ<mark>ھو</mark>ں نے اپنی کم فہمی سے گدلا بنا رکھا ہے وہ میرے ذریعہ صاف کیا جائے گا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۸۳) ۱ ضلع گورداسپور (شمس)