تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 1089

تذکرہ — Page 315

رکھا گیا لوگوں میں سنائی گئی اُس وقت حاضرین کی تعداد شاید دو۲۰۰ سو کے قریب ہوگی۔سبحان اللہ اس وقت ایک غیبی چشمہ کُھل رہا تھا مجھے معلوم نہیں کہ مَیں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کررہا تھا کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا… یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۷۵، ۳۷۶) (ج) ’’ھٰذَا ھُوَالْکِتَابُ الَّذِیْ اُلْھِمْتُ حِصَّۃً مِّنْہُ مِنْ رَّبِّ الْعِبَادِ فِیْ یَـوْمِ عِیْدٍ مِّنَ الْاَعْیَادِ فَقَرَاْتُہٗ عَلَی الْـحَاضِـرِیْنَ بِـاِنْطَاقِ الرُّوْحِ الْاَمِیْنِ مِنْ غَیْرِ مَدَدِ التَّرْقِیْمِ وَالتَّدْوِیْنِ۔فَلَاشَکَّ اَنَّہٗ اٰیَۃٌ مِّنَ الْاٰیَـاتِ۔وَ مَا کَانَ لِبَشَـرٍ اَنْ یَّنْطِقَ کَمِثْلِیْ مُرْتَـجِلًا مُّسْتَحْضِـرًا فِیْ مِثْلِ ھٰذِہِ الْعِبَارَاتِ…… وَاِنَّہٗ صَنِیْعَۃُ اِحْسَانِ الْـحَضْـرَۃِ وَ مَطِیَّۃُ تَبْلِیْغِ النَّاسِ اِلَی السَّعَادَۃِ وَ اِنَّہٗ غَیْثٌ مِّنَ اللّٰہِ بَعْدَ مَا اَمْـحَلَتِ الْبِلَادُ وَ عَمَّ الْفَسَادُ۔وَ لَنْ تَـجِدَ ھٰذِہِ الْمَعَارِفَ فِی الْاٰثَـارِ الْمُنْتَقَاۃِ الْمُدَوَّنَۃِ مِنَ الثِّقَاتِ۔بَلْ ھِیَ حَقَآئِقُ اُوْحِیَتْ اِلَیَّ مِنْ رَّبِّ الْکَآئِنَاتِ۔‘‘ (سرورق خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ۱) ۱ (ترجمہ از مرتّب) یہ (خطبہ الہامیہ) وہ کتاب ہے جس کا ایک حصّہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عید (عید الاضحی ۱۳۱۷ھ جو بتاریخ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۰ء تھی) کے دن الہام ہوا تھا اور پہلے سے لکھوانے اور تحریر میں لانے کے بغیر مَیں نے محض روح امین کے بلوانے پر حاضرین کے سامنے پڑھا تھا۔اس لئے اس بات میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہ ایک بڑا بھاری نشانِ الٰہی ہے۔اور اس طرح فی البدیہہ زبانی ایسی عبارت میں بولنا جیسا کہ مَیں نے یہ خطبہ پڑھا تھا کسی بشر کی طاقت میں نہیں ہے… یہ بارگاہِ الٰہی کا ایک عظیم الشان احسان ہے اور لوگوں کو سعادت تک پہنچانے کے لئے ایک سواری ہے اور اُس قحط کے بعد جو تمام بلاد پر محیط ہوگیا تھا اور جب کہ دنیا پر تباہی چھاگئی تھی یہ نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے بارانِ رحمت بن کر آیا اور ایسے حقائق و معارف چیدہ سے چیدہ تصانیف سلف و خلف ثقات میں بھی قطعاً نہیں مل سکتے بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جو ربّ العالمین کی طرف سے بذریعہ وحی مجھے بتائے گئے ہیں۔