تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 270 of 1089

تذکرہ — Page 270

مَیں اُس کے دل کی طرف خیال کررہا تھا کہ وہ ان باتوں کو بہت ہی برا مانتا تھا اور یہ ایک صریح دلیل اس بات پر ہے کہ سلطنت روم کے اچھے دن نہیں ہیں اور پھر اس کا بدگوئی کے ساتھ واپس جانا یہ اور دلیل ہے کہ زوال کی علامات موجود ہیں۔ماسوا اس کے میرے دعویٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کے بارے میں بھی کئی باتیں درمیان آئیں۔مَیں نے اُس کو بار بار سمجھایا کہ مَیں خدا کی طرف سے ہوں اور کسی خونی مسیح اور خونی مہدی کا انتظار کرنا جیسا کہ عام مسلمانوں کا خیال ہے یہ سب بیہودہ قصے ہیں۔اس کے ساتھ مَیں نے یہ بھی اُس کو کہا کہ خدا نے یہی ارادہ کیا ہے کہ جو مسلمانوں میں سے مجھ سے علیحدہ رہے گا وہ کاٹا جائے گا، بادشاہ ہو یا غیر بادشاہ۔اور مَیں خیال کرتا ہوں کہ یہ تمام باتیں تِیر کی طرح اُس کو لگتی تھیں اور مَیں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ جو کچھ خدا نے الہام کے ذریعہ فرمایا تھا۔وہی کہا تھا … اور مَیں مکرر ناظرین کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ مجھے اس سفیر کی ملاقات کا ایک ذرّہ شوق نہ تھا… اُس کے الحاح پر مَیں نے اُس کو قادیان آنے کی اجازت دی۔لیکن اللہ جلّ شانہٗ جانتا ہے جس پہ جھوٹ باندھنا لعنت کا داغ خریدنا ہے کہ اُس عالم الغیب نے مجھے پہلے سے اطلاع دے دی تھی کہ اِس شخص کی سرشت میں نفاق کی رنگ آمیزی ہے۔سو ایسا ہی ظہور میں آیا۔‘‘ (اشتہار ۲۴؍ مئی ۱۸۹۷ء۔مجموعہ اشتہارات جلد۲ صفحہ ۲۹۴ تا ۲۹۶ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) جون ۱۸۹۷ء ’’ اَرَدْتُّ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَـخَلَقْتُ اٰدَمَ خَلِیْفَۃَ اللّٰہِ السُّلْطَانَ۔‘‘؎۱ (مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۳۰۳ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۹؍جون ۱۸۹۷ء ’’ ہم نے دینی مصلحت اور شکر الٰہی کے طور پر ایک کتاب تحفہ قیصرؔیہ نام بطور ہدیہ قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجنے کے لئے تجویز کی تھی۔آج ایک خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اِس ارادہ میں کامیابی نہ ہو۔ایک الہام میں ہماری جماعت کے ایک ابتلاء کی طرف بھی اشارہ ہے مگر انجام سب خیرو عافیت ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۵۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۵؍جون ۱۸۹۷ء ’’افسوس کہ پرچہ چودھویں صدی ۱۵؍جون ۱۸۹۷ء میں بھی بہت سی جزع فزع کے ساتھ سلطان روم کا بہانہ رکھ کر نہایت ظالمانہ توہین و تحقیر و استہزاء اِس عاجز کی نسبت کیا گیا ہے … مگر کچھ ضرور ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے چاہا کہ اپنا خلیفہ بناؤں تو آدم کو پیدا کیا جو اللہ کا خلیفہ اور بادشاہ ہے۔