تذکرہ — Page 253
وَّ ھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔۸۳۔کُنْتُ کَنْزًا مَّـخْفِیًّا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ۔۸۴۔اِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا۔۸۵۔وَاِنْ یَّتَّخِذُ۔وْنَکَ اِلَّا ھُزُوًا۔اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ۔قُلْ اِنَّـمَآ اَنَـا بَشَـرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّـمَآ اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّالْـخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔۸۶۔وَلَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُـمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔۸۷۔وَقَالُوْا اِنْ ھٰذَا اِلَّا افْتِرَآءٌ۔قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی۔۸۸۔اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔۸۹۔اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِّیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّ۔مَ مِنْ ذَنبِکَ وَ مَا تَاَخَّرَ۔۹۰۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔فَبَرَّاَہُ اللّٰہُ مِـمَّا قَالُوْا وَکَانَ عِنْدَ اللّٰہِ وَجِیْـھًا۔وَاللّٰہُ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکَاذِبِیْنَ۔۹۱۔وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْـمَۃً مِّنَّا۔وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًا۔قَوْلَ الْـحَقِّ الَّذِیْ فِیْہِ تَـمْتَرُوْنَ۔۹۲۔یَـا اَحْـمَدُ فَاضَتِ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔۹۳۔اِنَّـآ اَعْطَیْنَاکَ الْکَوْثَـرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْـحَرْ۔اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَ۔بْتَـرُ۔؎۱ ۹۴۔یَاْتِیْ قَـمَرُ الْاَ۔نْبِیَآءِ وَاَمْرُکَبقیہ ترجمہ۔اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔۸۳مَیں ایک خزانہ پوشیدہ تھا سو مَیں نے چاہا کہ شناخت کیا جاؤں۔۸۴زمین و آسمان بندھے ہوئے تھے سو ہم نے دونوں کو کھول دیا۔۸۵اور تجھے انہوں نے ایک ہنسی کی جگہ بنا رکھا ہے کیا یہی ہے جو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔کہہ مَیں ایک آدمی ہوں تم جیسا، مجھے خدا سے الہام ہوتا ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے اور تمام بھلائی قرآن میں ہے۔۸۶اور مَیں اس سے پہلے ایک مدّت سے تم میں ہی رہتا تھا۔کیا تمہیں میرے حالات معلوم نہیں۔۸۷اور انہوں نے کہا کہ یہ باتیں افترا ہیں کہہ حقیقی ہدایت جس میں غلطی نہ ہو خدا کی ہدایت ہے۔۸۸اور خبردار ہو کہ خدا کا گروہ ہی آخر کار غالب ہوتا ہے۔۸۹ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی ہے تا تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کئے جائیں۔۹۰کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔سو خدا نے ان کے الزاموں سے اس کو بَری کیا اور وہ خدا کے نزدیک وجیہ ہے اور خدا کافروں کے مکر کو سُست کردے گا۔۹۱اور ہم اس کو لوگوں کے لئے نشان بنائیں گے اور رحمت کا نمونہ ہوگا اور یہی مقدّر تھا۔یہ وہ سچا قول ہے جس میں لوگ شک کرتے ہیں۔۹۲اے احمد! رحمت تیرے لبوں پر جاری ہورہی ہے۔۹۳ہم نے تجھے بہت سے حقائق اور معارف اور برکات بخشے ہیں اور ذرّیت نیک عطا کی ہے سو خدا کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔تیرا بد گو بے خیر ہے یعنی خدا اُسے بےنشان کردے گا اور وہ نامراد مرے گا۔۹۴نبیوں کا چاند آئے گا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ الہام کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ اس وقت اِس عاجز پر خدا تعالیٰ کی طرف سے القا ہوا کہ جب ایک شخص نومسلم سعد اللہ نام نے ایک نظم گالیوں سے بھری ہوئی اس عاجز کی طرف بھیجی تھی اور اس میں اس عاجز کی نسبت اس ہندو زادہ نے وہ الفاظ استعمال کئے تھے کہ جب تک ایک شخص درحقیقت شقی، خبیث طینت، فاسد القلب نہ ہو ایسے الفاظ استعمال نہیں کرسکتا… سو یہ الہام اس کے اشتہار اور رسالہ کے پڑھنے کے