تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 1089

تذکرہ — Page 243

٭ ۲۱؍دسمبر۱۸۹۴ء (الف) ’’ فَاَجَآءَھَاالْمَخاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ۔قَالَتْ یَا لَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا۔فَوَقَاھُمُ اللہُ مِنْ شَـرِّ ذَالِکَ الْیَوْمِ۔؎۱ اس وقت مَیں نے دیکھا کہ میری بیوی اس گھر کے اندرکے دالان میں گھبرائی دردِ زِہ میں اضطراب کرتی ہوئی میری چارپائی تک پہونچی ہے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹) (ب) ’’ یَـا مَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْ وَانَـا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹) (ترجمہ) اے مسیح جو خلقت کی بھلائی کے لئے بھیجا گیا۔ہماری طاعون کے دفع کے لئے مددکر۔(ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۰۳) مارچ ۱۸۹۵ء ’’کچھ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ مجھ کو خواب آیا تھا کہ ایک جگہ مَیں بیٹھا ہوں۔یک دفعہ کیا دیکھتا ہوں کہ غیب سے کسی قدر روپیہ میرے سامنے موجود ہوگیا ہے۔مَیں حیران ہوا کہ کہاں سے آیا۔آخر میری یہ رائے ٹھہری کہ خدا تعالیٰ کے فرشتہ نے ہماری حاجات کے لئے یہاں رکھ دیا ہے۔پھر ساتھ الہام ہوا کہ اِنِّیْ مُرْسِلٌ اِلَیْکُمْ ھَدِیَّۃً کہ مَیں تمہاری طرف ہدیہ بھیجتا ہوں اور ساتھ ہی میرے دل میں پڑا کہ اس کی یہی تعبیر ہے کہ ہمارے مخلص دوست حاجی سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب اس فرشتہ کے رنگ میں متمثل کئے گئے ہوں گے اور غالباً وہ روپیہ بھیجیں گے اورمَیں نے اس خواب کو عربی زبان میں اپنی کتاب میں لکھ لیا چنانچہ کل اس کی تصدیق ہوگئی۔اَلْـحَمْدُ لِلہِ۔یہ قبولیت کی نشانی ہے کہ مولیٰ کریم نے خواب اور الہام سے تصدیق فرمائی۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۴۳، ۳۴۴ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) اپریل ۱۸۹۵ء ’’اَوْحٰی اِلَـیَّ اَنَّ الدِّیْنَ ھُوَالْاِسْلَامُ وَاَنَّ الرَّسُوْلَ ھُوَالْمُصْطَفَی السَّیِّدُ الْاِمَامُ۔رَسُوْلٌ اُمِّـیٌّ اَمِیْنٌ۔فَکَمَآ اَنَّ رَبُّنَا اَحَدٌ یَسْتَحِقُّ الْعِبَادَۃَ وَحْدَہٗ فَکَذَالِکَ رَسُوْلُنَا الْمُطَاعُ وَاحِدٌ لَا نَبِیَّ بَعْدَہٗ وَ لَا شَـرِیْکَ مَعَہٗ وَ اَنَّہٗ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ۔(خدا تعالیٰ نے ) مجھے الہام کیا کہ دین اللہ اسلام ہی ہے اور سچا رسول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سردار امام ۱ (ترجمہ از مرتّب) پھر اس (عورت) کو دردِ زِہ کھجور کے تنے کی طرف لے گئ۔تب اس نے کہا کاش مَیں اس سے پہلے مَرجاتی۔پھرخدا نے انہیں اس دن کی خرابی سے بچالیا۔