تذکرہ — Page 201
کَمَوْتِ نَفْسٍ وَّاحِدٍ مَیِّتِیْنَ ذَلِیْلِیْنَ مَقْھُوْرِیْنَ سُلِخَتْ جُلُوْدُھُمْ وَشُـجَّتْ رُءُوْسُھُمْ وَذُعِطَتْ حُلُوْقُھُمْ وَقُطِعَتْ اَیْدِیْـھِمْ وَاَرْجُلُھُمْ وَصُـرِعُوْا کَالْمُمَزَّقِیْنَ۔وَاغْتِیْلُوْا کَالَّذِیْنَ سَقَطَ عَلَیْھِمْ صَاعِقَۃٌ فَکَانُوْا مِنَ الْمُحْرَقِیْنَ۔فَقُمْتُ عَلٰی مَصَارِعِھِمْ عِنْدَ التَّلَاقِیْ وَعَبَرَاتِیْ یَتَحَدَّرْنَ مِنْ مَّاٰقِیْ وَقُلْتُ یَارَبِّ رُوْحِیْ فِدَآءُ سَبِیْلِکَ لَقَدْ تُبْتَ عَلَـیَّ۔وَ نَصَـرْتَ عَبْدَ۔کَ بِنُصْـرَۃٍ لَّا یُوْجَدُ مِثْلُہٗ فِی الْعَالَمِیْنَ۔رَبِّ قَتَلْتَـھُمْ بِاَیْدِ۔یْکَ قَبْلَ اَنْ قَاتَلَ صِـرْعَانِ۔وَحَارَبَ حِتْنَانِ۔وَ بَـارَزَ قِتْلَانِ۔تَفْعَلُ مَا تَشَآءُ وَلَیْسَ مِثْلُکَ فِی النَّاصِرِیْنَ۔اَنْتَ اَنْقَذْتَنِیْ وَنَـجَّیْتَنِیْ وَمَاکُنْتُ اَنْ اُنْـجٰی مِنْ ھٰذِہِ الْبَلَا۔یَا لَوْ لَا رَحْـمَتُکَ یَـآ اَرْحَـمَ الرَّاحِـمِیْنَ۔ثُمَّ اسْتَیْقَظْتُ وَکُنْتُ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ الْمُنِیْبِیْنَ۔فَالْـحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔وَ اَوَّلْتُ ھٰذِ۔ہِ الرُّؤْیَـآ اِلٰی نُصْـرَۃِ اللّٰہِ وَ ظَفَرِہٖ بِغَیْرِ تَوَسُّطِ الْاَ۔یْدِ۔یْ وَالْاَسْبَابِ۔لِیُتِمَّ عَلَـیَّ نُعَمَآءَہٗ وَیَـجْعَلَنِیْ مِنَ الْمُنْعَمِیْنَ۔وَالْاٰنَ اُبَیِّنُ لَکُمْ تَـاْوِیْلَ الرُّؤْیَـا بقیہ ترجمہ۔تیزی سے ان کی طرف بڑھا اور جب مَیں ان کے قریب پہنچا تو دیکھا کہ وہ سب کے سب یکدم ذلّت کی حالت میں اور مورد غضب ِ الٰہی بن کر اس طرح پر مر گئے جیسے ایک شخص کا مرنا واقع ہوتا ہے اور ان کے چمڑے اتارے گئے اور اُن کے سروں کو کچل دیا گیا اور ان کے گلوں کو کاٹ دیا گیا اور اُن کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور پارہ پارہ کرکے پھینک دیئے گئے اور یکدم ان پر ایسی تباہی آئی جیسے کسی قوم پر بجلی گر کر ایک ہی دم میں اُسے نابود کردیتی ہے اور وہ بھسم ہوگئے۔اس کے بعد مَیں اُن کی ہلاکت کی جگہ پر جہاں وہ مقابلہ کے لئے اکٹھے ہوئے تھے کھڑا ہوا اورمیری آنکھوں سے آنسو کثرت سے بہہ رہے تھے اور مَیں نے (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا کہ اے میرے ربّ میری جان تیری راہ پر فدا ہو تو نے مجھ ناچیز پر خاص کرم فرمایا ہے اور اپنے بندۂ درگاہ کی وہ نصرت فرمائی ہے جس کی نظیر اقوام میں نہیں مل سکتی۔اے میرے ربّ تُو نے پیشتر اس کے کہ دو فریق باہم جنگ کرتے اور ۲دو حریف کارزار کو عمل میں لاتے اور دو مرد میدانِ کارزار میں کار فرما ہوتے، اپنے ہاتھوں سے ان کو قتل کردیا۔تُو جو چاہتا ہے کرتا ہے اور تیرے جیسا کوئی مدد دینے والا نہیں ہے۔تُو نے ہی مجھے بچایا اور مجھے نجات بخشی۔اے ارحم الراحمین اگر تو رحم نہ کرتا تو ممکن نہ تھا کہ مَیں ان بلاؤں اور آفات سے نجات پاتا۔پھر مَیں بیدار ہوگیا اور مَیں اس وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کررہا تھا اور اس کی طرف میری رُوح جھکی ہوئی تھی۔پس اللہ تعالیٰ کے لئے تعریف ہے جو تمام مخلوق کا ربّ ہے۔اور مَیں نے اس رؤیا کی یہ تعبیر کی کہ اس میں ظاہری اسباب اور انسانی کوششوں کے دخل کے بغیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور کامیابی کی بشارت ہے اور یہ کہ وہ مجھ پر اپنے انعام کو کامل کرنا اور مجھے اپنے فضلوں میں داخل کرنا چاہتا ہے۔اب میں