تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 1089

تذکرہ — Page 200

وَکُنْتُ اُقَیِّدُ لَـحْظِیْ بِاَشْبَاحِھِمْ کَالرَّآئِیْنَ وَکُنْتُ اُسَارِعُ اِلَیْھِمْ کَالْکُمَاۃِ۔وَکَانَ فَرَسِیْ کَاَنَّہٗ یُزْجِیْہِ قَآئِدُ الْغَیْبِ کَاِزْجَآءِ الْـحَمُوْلَاتِ بِالْـحُدَاۃِ۔وَکُنْتُ عَلٰی طَلَاوَۃِ اَقْدَامِہٖ کَالْمُسْتَطْرِفِیْنَ۔فَـمَا لَبِثُوْا اَنْ رَّجَعُوْا مُتَدَھْدِھًا اِلٰی خَـمِیْلَتِیْ لِیُزَاحِـمُوْا حَوْلِیْ وَحِیْلَتِیْ وَلِیُتْلِفُوْا ثِـمَارِیْ وَ یُزْعِــجُوْا اَشْـجَارِیْ۔وَلِیَشُنُّوْا عَلَیْـھَا الْغَارَاتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فَاَوْحَشَنِیْ دُخُوْلُھُمْ فِیْ بُسْتَانِیْ وَاُدْھِشْتُ بِاِغْرَاقِھِمْ وَ وُلُوْجِھِمْ فِیْھَا فَضَجِرْتُ ضَـجْرًا شَدِیْدًا وَّ قَلِقَ جَنَانِیْ وَ شَھِدَ تَوَسُّمِیْ اَنَّـھُمْ یُرِیْدُ۔وْنَ اِبَادَۃَ اَثْـمَارِیْ وَکَسْرَ اَغْصَانِیْ فَبَادَرْتُ اِلَیْھِمْ وَظَنَنْتُ اَنَّ الْوَقْتَ مِنْ مَّـخَاشِی اللَّأْوَآءِ۔وَصَارَتْ اَرْضِیْ مَوْطِنَ الْاَعْدَآءِ۔وَاَوْجَسْتُ فِیْ نَفْسِیْ خِیْفَۃً کَالضَّعِیْفِیْنَ الْمَزْءُوْدِیْنَ فَقَصَدْتُّ الْـحَدِیْقَۃَ لِاُفَتِّشَ الْـحَقِیْقَۃَ۔فَلَمَّا دَخَلْتُ حَدِیْقَتِیْ۔وَاسْتَشْـرَفْتُ بِتَحْدِیْقِ حَدَقَتِیْ وَاسْتَطْلَعْتُ طَلْعَ مَقَامِھِمْ رَاَیْتُـھُمْ مِّنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ فِیْ بُـحْبُوْحَۃِ بُسْتَانِیْ سَاقِطِیْنَ مَصْـرُوْعِیْنَ کَالْمَیِّتِیْنَ۔فَاَفْرَخَ کَرْبِیْ وَ اٰمَنَ سِـرْبِیْ وَبَـادَ۔رْتُ اِلَیْھِمْ جَذِلًا وَّ بِـاِقْدَامِ الْفَرِحِیْنَ فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْـھُمْ وَجَدْتُّـھُمْ اَصْبَحُوْا فَرْسٰی بقیہ ترجمہ۔اور میں پورے غور اور توجہ سے ان کی شکلوں کو دیکھ رہا ہوں اور مَیں پہلوانوں اور بہادروں کی طرح تیزی سے ان کی طرف جارہا ہوں اور میرا گھوڑا ایسا تیزی سے جاتا تھا کہ کوئی غیب سے اِسی طرح پر چلا رہا ہے جیسا کہ حُدِی خوان لوگ اونٹوں کو تیز چلاتے ہیں۔مَیں اس کے قدموں کی خوبصورتی اور دلکشی کی و جہ سے بھی خوشی محسوس کرتا تھا۔اس پر انہوں نے میری طاقت اور میری تدبیر میں مزاحم ہونے۔میرے باغ کے پھلوں کو تلف کرنے اور درختوں کی بیخ کنی کرنے اور ان کو تباہ و برباد کرنے کے لئے اُن پر غارت ڈالنے کی غرض سے فوراً لوٹ کر میرے باغ کی طرف رُخ کیا۔ان کے میرے باغ میں داخل ہونے اور گھس جانے کی وجہ سے مَیں گھبرایا اور مجھے سخت تشویش اور بے چینی پیدا ہوئی اور میری فراست نے بتایا کہ وہ لوگ میرے باغ کے پھلوں کو تباہ کرنا اور شاخوں کو توڑدینا چاہتے ہیں اِس لئے مَیں دوڑ کر ان کی طرف بڑھا اور مَیں نے سمجھا کہ یہ وقت سخت خطرناک ہے اور میری زمین کو دشمنوں نے اپنا وطن بنا لیا ہے اور مَیں کمزور اور خوفزدہ لوگوں کی طرح اپنے دل میں خوف محسوس کرنے لگا۔سو اِس بنا پر مَیں حقیقت ِ حال معلوم کرنے کی غرض سے اپنے باغ کی طرف چل پڑا اور جب مَیں اپنے باغ میں داخل ہوا اور غور سے اُس میں نگاہ ڈالی اور اس میں ان کے مقام کی جگہ دریافت کرنے لگا تو مَیں نے دُور ہی سے دیکھا کہ وہ میرے باغ کے درمیانی صحن میں گرے پڑے اور مُردوں کی طرح پچھڑے پڑے ہیں۔اِس پر میری گھبراہٹ جاتی رہی اور مجھے اطمینانِ خاطر حاصل ہوگیا اور مَیں نہایت خوشی کے ساتھ