تذکرہ — Page 171
۱۸۹۱ء ’’مَیں پہلے خط میں لکھ چکا ہوں کہ ایک آسمانی فیصلہ؎۱ کے لئے مَیں مامور ہوں اور اس کے ظاہری انتظام کے درست کرنے کے لئے مَیں نے ۲۷؍دسمبر۱۸۹۱ء کو ایک جلسہ تجویز کیا ہے۔متفرق مقامات سے اکثر مخلص جمع ہوں گے۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ۔مکتوباتِ احمد جلد۲ صفحہ ۱۶۱۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۱ء ’’ایک دُعا کے وقت کشفی طور پر مجھے معلوم ہوا کہ آپ میرے پاس موجو دہیں اور ایک دفعہ گردن اُونچی ہوگئی اور جیسے اقبال اور عزت کے بڑھنے سے انسان اپنی گردن کو خوشی کے ساتھ اُبھارتا ہے ویسی ہی صورت پیدا ہوئی۔مَیں حیران ہوں کہ یہ بشارت کس وقت اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے۔مَیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے مگر مَیں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا اقبال؎۲اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جلّ شانہٗ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر ہے۔اگرچہ اس کا زمانہ نزدیک ہو یا دُور ہو۔سو مَیں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے غمگین تھا مگر آج خوش ہوں کیونکہ آپ کے مآلِ کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی۔‘‘ (از مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۱۶۱۔مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۱ء ’’کِتَابٌ سَـجَّلْنَاہُ مِنْ عِنْدِنَـا۔یہ وہ کتاب ہے جس پر ہم نے اپنے پاس سے مُہر لگادی ہے۔‘‘ (آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴صفحہ ۳۲۱) ۱۸۹۱ء ’’خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے صاف لفظوں میں فرمایا ہے۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ’’آسمانی فیصلہ‘‘ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اسلام کی برکات اب بھی جاری ہیں اور آپ اس مدّعا کے ثابت کرنے کے لئے مامور ہیں۔۲ خاکسار مرتّب عرض کرتا ہے کہ یہ بشارت ۱۹۰۸ء میں اس طرح سے پوری ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دامادی کا شرف بخشا اور حضور کی بڑی صاحبزادی حضرت نواب مبارکہ بیگم صا حبہ آپ کے نکاح میں آئیں اس سے بڑھ کر آپ کی اقبال مندی، خوش نصیبی اور ترقی عزت اور کیا ہوسکتی ہے۔(مرزا بشیر احمد)