تذکرہ — Page 160
مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدائے تعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اور اِس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ بھی الہام ہوا۔ھٰذَا ھُوَ التِّرْبُ الَّذِیْ لَا یَعْلَمُوْنَ یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کو کچھ خبر نہیں۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ۲۵۹ حاشیہ) ۱۸۹۱ء ’’اور مجھے اُس ذات کی قسم ہے کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابھی اور اسی وقت کشفی طور پر یہ صداقت؎۱ مذکورہ بالا میرے پر ظاہرکی گئی ہے اور اسی مُعلّمِ حقیقی کی تعلیم سے میں نے وہ سب لکھا ہے جو ابھی لکھا ہے۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۲۹۳) ۱۸۹۱ء ’’اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیّت بھی کردی گئی اُس وقت گویا یہ پیشگوئی؎۲ آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنی ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔تب اُسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا۔اَلْـحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ یعنی یہ بات تیرے ربّ کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۳۰۶) ۱۸۹۱ء ’’خدائے تعالیٰ نے آپ اپنے کلام میں میری طرف اشارہ کرکے فرمایا ہے۔نبی ناصری کے نمونہ پر اگر دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ بندگانِ خدا کو بہت صاف کررہا ہے اس سے زیادہ کہ کبھی جسمانی بیماریوں کو صاف کیا گیا ہو۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۳۳۵) ۱ یعنی مَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ کی تفسیر بیان فرمودہ از ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۲۹۰ تا ۲۹۳ (مرزا بشیر احمد) ۲ یعنی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری والی پیش گوئی بحوالہ ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۰۵، ۳۰۶۔(شمس)