تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 111 of 1089

تذکرہ — Page 111

خیال کرتا ہے کہ وہی خداوند قادرِ مطلق ہے اور یہ امر ارباب کشوف میں شائع و متعارف و معلوم الحقیقت ہے جس سے کوئی صاحب ِ کشف انکار نہیں کرسکتا) غرض وہی صفت جمالی جو بعالم کشف قوت ِمتخیلہ کے آگے ایسی دکھلائی بقیہ حاشیہ۔حضرت اقدس اس وقت کروٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے اور منہ مبارک پر اپنا ہاتھ کہنی کی جگہ سے رکھا ہوا تھا۔میرے دل میں اس وقت بڑے سرور اور ذوق سے یہ خیالات موجزن تھے کہ میں کیا خوش نصیب ہوں کیا ہی عمدہ موقعہ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ نے مجھے دیا ہے کہ مہینوں میں مہینہ مبارک رمضان شریف کا ہے اور تاریخ بھی جو ۲۷ ہے مبارک ہے۔اور عشرہ بھی مبارک ہے اور دن بھی جمعہ ہے جو نہایت مبارک ہے اور جس شخص کے پاس بیٹھا ہوں وہ بھی نہایت مبارک ہے اللہ اکبر کس قدر برکتیں آج میرے لئے جمع ہیں۔اگر خدا وند کریم اس وقت کوئی نشان حضرت اقدس کا مجھے دکھا دے تو کیا بعید ہے۔میں اسی سرور میں تھا اور پاؤں ٹخنہ کے قریب سے دبا رہا تھا کہ یکایک حضرت اقدس کے بدنِ مبارک پر لرزہ سا محسوس ہوا اور اس لرزہ کے ساتھ ہی حضور نے اپنا ہاتھ مبارک منہ پر سے اُٹھا کر میری طرف دیکھا۔اُس وقت آپ کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے شاید جاری بھی تھے اور پھر اسی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر لیٹے رہے جب میری نظر ٹخنہ پر پڑی تو اُس پر ایک قطرہ سُرخی کا جو پھیلا ہوا نہیں بلکہ بستہ تھا مجھے دکھلائی دیا۔مَیں نے اپنی شہادت کی انگلی کا پھول اُس قطرہ پر رکھا تو وہ پھیل گیا اور سُرخی میری اُنگلی کو بھی لگ گئی۔اس وقت میں حیران ہوا اور میرے دل میں یہ آیت گذری۔صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً۔نیز یہ بھی دل میں گذرا کہ اگر یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں شاید خوشبو بھی ہو۔چنانچہ میں نے اپنی انگلی سونگھی مگر خوشبو وغیرہ کچھ نہ تھی۔پھر میں ٹخنہ کی طرف سے کمر کی طرف دبانے لگا۔تو حضرت اقدس کے کُرتہ پر بھی چند داغ سُرخی کے گیلے گیلے دیکھے۔مجھ کو نہایت تعجب ہوا اور میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا اور حجرہ کی ہر جگہ کو خوب اچھی طرح دیکھا مگر مجھے سُرخی کا کوئی نشان حجرہ کے اندر نہ ملا۔آخر حیران سا ہوکر بیٹھ گیا اور بدستور پاؤں دبانے لگ گیا۔حضرت صاحب منہ پر ہاتھ رکھے لیٹے رہے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور اُٹھ کر بیٹھ گئے اور پھر مسجد مبارک میں آکر بیٹھ گئے یہ عاجز بدستور پھر کمر وغیرہ دبانے لگ گیا۔اس وقت میں نے حضور سے عرض کی کہ حضور پر یہ سرخی کہاں سے گری۔پہلے تو ٹال دیا پھر اس عاجز کے اصرار پر وہ سارا واقعہ بیان فرمایا جس کو حضرت اقدس تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں درج فرماچکے ہیں مگر بیان کرنے سے پہلے اس عاجز کو رؤیت باری تعالیٰ کا مسئلہ اور کشفی امور کا خارج میں وجود پکڑنا حضرت محی الدین عربی کے واقعات سنا کر خوب اچھی طرح سے ذہن نشین کرادیا تھا کہ اس جہان میں کاملین کو بعض صفاتِ الٰہیہ جمالی یا جلالی متمثل ہوکر دکھلائی دی جاتی ہیں۔پھر حضرت اقدس نے مجھے فرمایا کہ آپ کے کپڑوں پر بھی کوئی قطرہ گرا۔میں نے اپنے کپڑے اِدھر اُدھر سے دیکھ کر عرض کیاکہ حضرت میرے پر تو کوئی قطرہ نہیں ہے فرمایا اپنی ٹوپی پر (جو سفید ململ کی تھی) دیکھو۔میں نے ٹوپی اُتار کر دیکھی تو ایک قطرہ اس پر بھی تھا۔مجھے اس وقت بہت ہی خوشی ہوئی کہ میرے پر بھی ایک قطرہ خدا کی روشنائی کا گرا۔اس عاجز نے وہ کُرتہ جس پر سُرخی گری تھی تبرکاًحضرت اقدس سے باصرار تمام لے لیا اس عہد پر کہ میں وصیت کر جاؤں گا کہ میرے کفن کے ساتھ دفن